پاکستان میں سینسر بورڈ ختم کر دینا چاہیے، اداکار علی رحمٰن خان

پاکستان میں سینسر بورڈ ختم کر دینا چاہیے، اداکار علی رحمٰن خان

اداکار علی رحمٰن خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سینسر بورڈ ختم کردینا چاہیے، آج کل ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے، عوام کو معلوم ہے کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں دیکھنا، سینسر بورڈ پہلے خود فلم کے مزے لیتی ہے اور پھر عوام کو کہتی ہے کہ آپ فلم نہیں دیکھ سکتے۔
اد رہے کہ پاکستان میں سینسر بورڈ کئی سالوں سے کام کررہا ہے تاہم اس دوران پاکستانی فلموں پر پابندی عائد کرنے پر بورڈ کو عوام اور فنکاروں کی جانب سے شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا، فلموں پر پابندی لگانے کا آغاز قیامِ پاکستان کے چند برس بعد ہی شروع ہوگیا تھا جو آج تک جاری ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں میں سینسر بورڈ کی جانب سے جن فلموں پر پابندی لگائی گئی ان میں سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘، ’آئی وِل میٹ یو دیئر‘ ، فلم ’ورنہ‘ ، فلم ’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘ ، ’جوائے لینڈ اور دیگر شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں