ڈالر کی بڑھتی طلب، آمد میں کمی کے سبب روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم گیا

ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی اور انٹربینک مارکیٹ میں 285 روپے کے قریب پہنچ گیا

ڈالر نے دوبارہ اڑان بھرنا شروع کردی اور انٹربینک مارکیٹ میں 285 روپے کے قریب پہنچ گیا
ڈالر کی بڑھتی طلب، آمد میں کمی کے سبب روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ تھم گیا
– 2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی
اتوار 05 نومبر 2023ء
صرف 2 ماہ قبل 5 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 307 روپے 10 پیسے تک پہنچ گئی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کرنسی کے غیرقانونی کاروبار اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔

اس کریک ڈاؤن کے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے اور 16 اکتوبر کو ڈالر 307 روپے ایک پیسے کم ہو کر 276 روپے 63 پیسے پر آگیا جوکہ 40 روز میں 30 روپے 47 پیسے یا 9.9 فیصد کی کمی ہے۔

ٹریس مارک کے سی ای او فیصل مامسا نے کہا کہ روپے نے گزشتہ 5 روز کے دوران روپے کی قدر میں 4 روپے کی کمی آئی ہے کیونکہ ایکسپورٹ سے آنے والی آمدنی میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک، 2 اور 3 ماہ کے فارورڈ پریمیم کی آخری بار 200، 300 اور 600 پیسے میں تجارت کی گئی تھی (گزشتہ ہفتے میں یہ 0، 0 اور 90 پیسے پر تھی)۔ آنے والے ہفتے میں ڈالر 285 روپے پر مستحکم رہتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں کبھی کبھار 288 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے، مارکیٹ پُرامید ہے کہ ایک بار جب آئی ایم ایف پاکستان کو کلین چٹ دے دے گا تو روپے کی قدر بحال ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں