قوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے قدیم آبادی ہے، جس کی پیمائش 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب سے کی جاتی ہے۔ یہ تناسب اٹلی میں 24.5 فی صد اور فن لینڈ میں 23.6 فی صد ہے جو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ سوشل سیکیورٹی ریسرچ کے مطابق جاپان میں 2040 تک 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی آبادی 34.8 فیصد ہو جائے گی۔ ملک کی عمر رسیدہ افراد کی روزگار کی شرح بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے – 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کارکن قومی افرادی قوت کا 13 فی صد سے زیادہ ہیں۔ Interview: What an Aging and Shrinking Population Means for Japan | Asia Society جاپان نے آئندہ مالی سال کے لیے ریکارڈ بجٹ کی منظوری دے دی ہے جس کی ایک وجہ سماجی تحفظ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ جاپان میں شرح پیدائش کو بڑھانے کی کوششوں کو بھی زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور کام کے طویل گھنٹوں کے درمیان بہت کم کامیابی ملی ہے۔ جاپان کے ہمسایہ ممالک سمیت کئی ممالک میں شرح پیدائش سست روی کا شکار ہے لیکن جاپان میں یہ مسئلہ خاص طور پر شدید ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال آٹھ لاکھ سے بھی کم بچے پیدا ہوئے جو 19 ویں صدی میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے سب سے کم تعداد ہے، 1970 کی دہائی میں یہ تعداد 2 ملین سے زیادہ تھی۔

جاپان دنیا میں سب سے زیادہ معمر افراد کا ملک بن گیا

جاپان دنیا میں سب سے زیادہ معمر افراد کا ملک بن گیا ہے جہاں 10 میں سے ایک شخص کی عمر 80 یا اس سے زائد ہے۔ 125 ملین آبادی میں سے 29.1 فی صد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔
جاپان کا شمار دنیا میں سب سے کم شرح پیدائش والے ممالک میں ہوتا ہے اور وہ طویل عرصے سے اس بات کے لیے جدوجہد کر رہا ہے کہ اپنی عمر رسیدہ آبادی کو کیسے پورا کیا جائے۔ قوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے قدیم آبادی ہے، جس کی پیمائش 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب سے کی جاتی ہے۔یہ تناسب اٹلی میں 24.5 فی صد اور فن لینڈ میں 23.6 فی صد ہے جو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ سوشل سیکیورٹی ریسرچ کے مطابق جاپان میں 2040 تک 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی آبادی 34.8 فیصد ہو جائے گی۔

ملک کی عمر رسیدہ افراد کی روزگار کی شرح بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے – 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کارکن قومی افرادی قوت کا 13 فی صد سے زیادہ ہیں۔جاپان نے آئندہ مالی سال کے لیے ریکارڈ بجٹ کی منظوری دے دی ہے جس کی ایک وجہ سماجی تحفظ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔
جاپان میں شرح پیدائش کو بڑھانے کی کوششوں کو بھی زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت اور کام کے طویل گھنٹوں کے درمیان بہت کم کامیابی ملی ہے۔
جاپان کے ہمسایہ ممالک سمیت کئی ممالک میں شرح پیدائش سست روی کا شکار ہے لیکن جاپان میں یہ مسئلہ خاص طور پر شدید ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال آٹھ لاکھ سے بھی کم بچے پیدا ہوئے جو 19 ویں صدی میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے سب سے کم تعداد ہے، 1970 کی دہائی میں یہ تعداد 2 ملین سے زیادہ تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں