کویت میں اقامہ قانون سے متعلق اہم اصلاحات جلد متوقع

اس ماہ کے آخر میں کویت میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد اقامتی قانون سے متعلق حکومت کی جانب سے آبادی کے ڈھانچے کو حل کرنے، تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے، ملازمتوں کو کویتی شہریوں تک محدود کرنے، نجی شعبے میں کویتی شہریوں کی تعداد بڑھانے اور معیشت میں اصلاحات کے لیے قومی اسمبلی میں ایک نیا اقامتی قانون پیش کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے سابقہ ​​قومی اسمبلی میں جو قوانین پیش کیے گئے تھے وہ چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ نئی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے جن کی درخواست سابق اراکین پارلیمنٹ اور انتخابات میں حصہ لینے والے کچھ امیدواروں نے کی تھی۔ مجوزہ نیا قانون سپانسرز (کفیل) پر پابندی عائد کرتا ہے کہ وہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کی اجازت کے بغیر غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں نہ لائیں۔ مزید یہ کہ وزیر کو اسپانسر سے درکار طریقہ کار، دستاویزات اور فیس کے بارے میں فیصلہ جاری کرنا ہو گا۔ کوئی بھی سپانسر جو کسی کارکن کو غیر قانونی طور پر ملازمت دیتا ہے یا بھگوڑے کرتا ہے تو

اسے 5,000 سے لے کر زیادہ سے زیادہ 50,000 کویتی دینار تک کے بھاری جرمانے کرنا ہوں گے اس کے علاوہ کارکنوں کو ملک بدر کرنے سے متعلق تمام اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے جبکہ بار بار ہونے والے جرائم کی صورت میں، خلاف ورزیاں پبلک پراسیکیوشن کو بھیجی جائیں گی۔

زرائع نے کہا کہ “مجوزہ قانون سرکاری منصوبوں کے لیے کنٹریکٹ کیے گئے اسپانسرز کو ملک سے باہر سے کارکنوں کو بھرتی کرنے یا مطلوبہ تعداد سے زیادہ کارکنوں کو بھرتی کرنے کے لیے مجاز حکام کو درخواست دینے سے بھی منع کرتا ہے جس سے اقامہ کی تجارت کو روکنے میں مدد ملے گی۔ “جن غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت نہیں ہے ان کی تعداد کو کم کرنے کے لیے تمام اسپانسرز کو اپنے ہر کارکن کے لیے 500 دینار کی جمع رقم ادا کرنا ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ملازمت پر ہیں اور ان کی سروس کے اختتام تک تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ساتھ ہی ہیلتھ انشورنس سے متعلق درج ذیل طریقہ کار اور کارکنوں کو ان کے ملکوں میں واپس بھیجنے کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں”۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ کارکنوں کو ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں، آجر کو مزدوروں کے کل واجبات کے دگنے کے برابر جرمانہ کیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ “تمام اسپانسرز کو کارکنوں کے لیے رہائش کی جگہ اور ہیلتھ انشورنس کے ساتھ ساتھ ان کا پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بھیجنے سے متعلق سفری اخراجات کو یقینی بنانا ہو گا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ “امکان ہے کہ یہ تبدیلیاں نئی ​​اسمبلی کی مدت کے دوران ہوں گی کیونکہ عام لوگوں کو یقین ہے کہ آبادیاتی عدم توازن، غیر ہنر مند کارکنوں میں اضافہ اور کفیلوں اور کارکنوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے”۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں