کویت: 60 سالہ فیصلے کے بعد ورک پرمٹ کی تجدید کب شروع ہو گی؟پتا چل گیا!

کویت میں 60 سال سے زائد عمر کے تارکین وطن کے ورک پرمٹ کی تجدید اتوار سے شروع ہو گی جبکہ 400 سے 500 دینار کی ہیلتھ انشورنس لازمی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت جس کی سربراہی وزیر انصاف اور وزیر مملکت برائے انٹگرٹی جمال الجلاوی نے کی نے تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والی مشکلات کے بعد 60 سالہ غیرملکیوں کے فیصلے میں ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تارکین وطن ملازمین جو ہائی اسکول ڈپلومہ یا اس سے کم اور اس کے مساوی سرٹیفکیٹ رکھتے ہیں کو ورک پرمٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس زمرے کو ختم کرنے کے لیے کئی فریقوں کی جانب سے بھرپور کوششیں کی گئیں اور “انسانیت کے ملک” کویت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الجلاوی نے فیصلہ کیا کہ اس کی اجازت دینے کے فیصلے میں ترمیم کی جائے اور 250 دینار کی سالانہ فیس ادا کرنے کے عوض ملازمین کے لیے ورک پرمٹ کی تجدید اور انشورنس کو ممکن بنایا جائے بشرطیکہ اسٹاک مارکیٹ میں درج انشورنس کمپنیوں میں سے کسی ایک کمپنی سے جامع ہیلتھ انشورنس پالیسی کے کرائی جائے۔

الجلاوی نے ایک پریس بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق ایک سال کی مدت کے لیے کیا جائے گا اس عرصے کے دوران لیبر مارکیٹ کے حالات کے مطابق جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے کیے جانے والے مطالعات کی روشنی میں اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں روزنامہ القبس کو معلوم ہوا کہ اس فیصلے کو سرکاری اخبار “کویت الیوم” میں شائع کرنے کے بعد 60 سال کی عمر کے افراد کے لیے ورک پرمٹ کی تجدید اگلے اتوار سے شروع ہو جائے گی جبکہ محکمہ افرادی قوت اس بات کا انتظار کر رہے ہیں تجدید کے لیے آسان الیکٹرانک سسٹم یا فارم سسٹم کے ذریعے لین دین کیسے وصول کیا جائے جس میں متعلقہ دستاویزات اپلوڈ کیے جاتے ہیں اور پھر منظوری اور تجدید کے لیے محکموں کے ذریعے ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

انشورنس سیکٹر کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ 60 سالہ تارکین وطن کے لیے انشورنس پالیسیوں کے طریقہ کار کا تعین کرنے کے لیے ابھی تک سیکٹر کمپنیوں کے ساتھ کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا ہے تاہم انہوں نے تجویز پیش کی کہ پالیسی کی قیمت 400 سے 500 دینار کے درمیان ہوگی بہترین نگہداشت کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انشورنس میں مہارت رکھنے والی منظور شدہ کمپنیوں کے لیے اسے ٹینڈر کی شکل میں پیش کرنے کا امکان ہے تاکہ صحت اور دستاویزات کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں