کویت: اومیکرون وائرس کی وجہ سے غیر ملکی نئی پریشانی کا شکار ہو گئے

اومیکرون Omicron وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کی وجہ سے کویت سے دوسرے ممالک چھٹیوں پر جانے والے غیر ملکی واپسی کے لیے کوششیں کرنے لگے۔

دنیا میں نئے COVID-19 ویرینٹ Omicron کے انکشاف نے کویت واپسی کے لئے ٹکٹوں کی قیمت کو ایک بار پھر سے تقریباً دوگنا کر دیا ہے جو کہ 100 دینار سے 190 دینار تک پہنچ چکی ہیں۔ ٹریول اینڈ ٹورزم مارکیٹ کی پیشرفت سے واقف ذرائع کے مطابق اس مہینے کے آنے والے چند دنوں میں دستیاب پروازوں کے لیے تارکین وطن کی طرف سے کویت واپسی کے لیے اپنی ٹکٹوں کو جلد از جلد ری شیڈول کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ صحت کے حکام کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی احتیاطی اقدامات کے اثرات جو کویت میں دوبارہ داخل ہونے کی صلاحیت کو محدود کر دیں گے جیسا کہ پچھلے سال وبائی امراض کے ابتدائی دنوں میں ہوا تھا اسی خوف کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن نے اپنی سالانہ تعطیلات کو مختصر کرنے اور اگلے مہینے کے آغاز میں کویت واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کویت سے باہر سفر کرنے کے تمام مقامات کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں اب بھی اپنے معمول کے نرخوں پر ہیں جو اکانومی کلاس میں ٹکٹ کے لیے 25 دینار سے شروع ہوتی ہیں تاہم براہ راست کویت واپسی کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں 180 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے خاص طور پر ان ممالک سے جہاں سے زیادہ تر تارکین وطن واپس آتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک ٹریول اینڈ ٹورازم ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل محمد البشیر نے کہا کہ “Omicron ویریئنٹ کے حوالے سے گزشتہ کئی گھنٹوں سے گردش کرنے والی خبروں نے دنیا کے بہت سے ممالک کو وائرس سے متاثرہ ممالک کے لیے پروازوں کو معطل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ کووِڈ 19 کے اس نئے ورژن کے پیش نظر کوئی اقدام کیا جائے تارکین وطن نے کمرشل پروازوں کی معطلی اور ملک میں داخل ہونے سے روکے جانے کے خوف سے کویت واپس آنے کے لیے اپنی سفری تاریخوں کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

کویت میں بہت سے ٹریول اور ٹورازم دفاتر نے اپنے صارفین کی جانب سے واپسی کی تاریخوں کو تبدیل کرنے کی درخواستیں وصول کرنا شروع کر دیں ہیں۔ اس عمل نے اس مہینے کے بقیہ دنوں کے لیے پروازوں کے نظام الاوقات کی بہت زیادہ مانگ پیدا کر دی ہے جس سے واپسی کے سفر کی قیمت اوسط 69 دینار سے بڑھا کر ایک ٹکٹ کے لیے 200 دینار سے زیادہ ہو گئی ہے۔” البشیر نے اشارہ کیا کہ کویت سے باہر تمام مقامات کے لیے پروازیں اب بھی عام قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اگر کویت کوئی نیا اقدام کرتا ہے یا سفری پابندیاں عائد کرتا ہے جس سے ان منزلوں کے علاوہ جہاں سے رہائشی آتے ہیں وہاں سے واپسی کی قیمتوں کو متاثر کرے گا تو اس سے مسافروں کے رویے میں ایک بار پھر تبدیلی آئے گی اور تمام مقامات سے واپسی کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا سول ایوی ایشن ، ٹریول و ٹورزم کے شعبوں کے باخبر ذرائع نے کہا کہ اگر کوویڈ19 کے نئے ورژن کے انفیکشن کی شرح میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تو اگلے چند دنوں کے دوران کویت واپسی کے سفر کی مانگ میں اضافے کی توقع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد تارکین وطن نے تصدیق کی کہ انہوں نے چار اہم پہلوؤں کے خوف سے کویت واپسی کا شیڈول تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

  1. پچھلا تجربہ: کویت اپنے احتیاطی صحت کے اقدامات میں سخت ترین ممالک میں سے ایک تھا جس میں طویل عرصے سے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی شامل تھی۔
  2. ملازمتیں برقرار رکھنا: بہت سے تارکین وطن اپنی ملازمتوں کو برقرار رکھنے اور اپنی آمدنی جاری رکھنے کے لیے تیزی سے واپس آنے اور اپنے کام میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  3. ٹرانزٹ: بہت سے تارکین وطن ٹرانزٹ ممالک میں 14 دنوں تک رہنے کے تجربے کو دہرانا نہیں چاہتے جو کہ لمبا ہو سکتا ہے جیسا کہ پہلے ماضی میں دیکھا گیا ہے۔
  4. زیادہ قیمت: بہت سے تارکین وطن کا خیال ہے کہ اگر ماضی کی طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو زیادہ قیمت برداشت کرنے کے بجائے آنے والے دنوں میں سفری ٹکٹوں کی زیادہ قیمت برداشت کرنا بہتر ہے۔

ایسی صورت میں لاگت بہت زیادہ ہو جائے گی خاص طور پر ان کی آمدنی میں کٹوتی کے بڑھتے ہوئے امکانات کے ساتھ وہ اس وقت اسے برداشت نہ کر سکیں۔

بحوالہ:  کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں