کویت نے غیرملکیوں کو 15 سالہ اقامہ دینے کا فیصلہ کر لیا

دیگر خلیجی ممالک میں نافذ اقامتی ضوابط کی طرح کویت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ رہائشی ویزا دینے کا فیصلہ۔

تفصیلات کے مطابق روزنامہ القبس کے ذرائع نے پڑوسی خلیجی ممالک میں نافذ رہائشی ضوابط کی طرح آزادی کو فروغ دینے اور معاشی تقویت کی حمایت کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور تجارتی منصوبوں کے مالکان اور کچھ کاروباروں میں سی ای اوز کو 5 سے 15 سال کے درمیان رہائشی اقامہ فراہم کرنے کے رجحان کا انکشاف کیا ہے۔ ذرائع نے روزنامہ القبس کو بتایا کہ “حکومت اقامتی نظام اور ورک پرمٹ میں ترمیم کرنے اور ملک میں رہائشی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص زمروں کے تارکین وطن جو کہ ملکی معیشت میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں کے لئے

اسپانسر شپ (کفیل) نظام کی ضرورت کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔” انہوں نے وضاحت کی کہ ان اقدامات کا آخر کار عملی طور پر آغاز ہو چکا ہے۔ متعلقہ حکام نے نئے ریزیڈنسی سسٹم سے فائدہ اٹھانے والوں کے کچھ زمروں کی نشاندہی کی ہے جو ملک کے اندر پراجیکٹس کو لاگو کرنے کے خواہشمند سرمایہ کاروں یا موجودہ پراجیکٹس کے مالکان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیان کئے گئے زمروں میں سے موجودہ نظام کے مطابق

(آرٹیکل 18) ویزا کے حامل افراد کو ریاستی ضمانت پر 15 سال کی مدت تک رہائش دی جائے گی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ”اس قدم کو موجودہ کفالت کے نظام کی تحلیل سمجھا جاتا ہے”۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ “یہ اقدام ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کمپنی کے مالکان کو ان کے اپنے ضوابط اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نقل و حرکت کی آزادی فراہم کرنے کے منصوبے کو تقویت دے گا جس کی منظوری جلد دی جائے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ “ترمیم ایک “خود کفیل” کی رہائش دینے کے طریقہ کار کو بھی توسیع دے گی خاص طور پر وہ جو لوگ طویل عرصے سے ملک میں مقیم ہیں یا سرکاری اداروں میں کام کیا ہو اور اب بھی کام کرنے کی ضرورت کے بغیر اپنے مالی معاملات چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں بہترین سروس فراہم کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ رجحان ابھی بھی متعلقہ حکام خاص طور پر وزارت داخلہ اور عوامی اتھارٹی برائے افرادی قوت میں زیر بحث ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں