کویت میں رہائش دبئی سے بھی مہنگی ہو گئی

کویت میں مکانات کی قیمت خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

گلف بینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دبئی ، ابوظہبی اور ریاض جیسی خلیجی مارکیٹوں کے مقابلے میں کویت میں مکانات کی قیمتیں نسبتا مہنگی ہیں۔ کویت میں مکانات کی قیمت آمدنی کے تناسب سے دبئی اور ابوظہبی میں اوسط قیمتوں سے تقریبا تین گنا زیادہ ہے یہاں تک کہ لندن میں اوسط قیمتوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ یہ شرح بتاتی ہے کہ کویت میں مکانات کی خریداری کے لیے دی گئی فنانسنگ کی رقم کو اوسط کویتی شہری کی حقیقی آمدنی سے ماہانہ قسطیں ادا کر کے واپس کرنے میں تقریبا 16.5 سال لگتے ہیں۔ کویت سٹی میں اوسط مکانات کی قیمت خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں گھروں کو خریدنا کئی شہریوں کی استطاعت سے باہر ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کویت میں تعمیراتی شعبے نے 2019 میں غیر آئل جی ڈی پی میں 5.1 فیصد اور 2020 میں 2.9 فیصد حصہ ڈالا اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ مالی سال 2020 کے کرایہ الاؤنس پر حکومتی اخراجات 2.9 ارب دینار ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کویت میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا بلند رجحان 2016 سے جاری ہے۔ حجم اور قیمت کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر لین دین میں اضافہ ہوتا ہے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ 2021 کے پہلے چار ماہ کے دوران رہائشی رئیل اسٹیٹ کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی اور مارچ کے دوران فروخت عروج پر ریکارڈ کی گئی۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں