کویت کو پاکستان سے مزید ڈاکٹر و طبی عملہ درکار

وزارت صحت نے فرنٹ لائن بونس کے تحت آنے والے ورکرز کو تین زمروں میں درجہ بند کردیا جبکہ مزید 200 پاکستانی ڈاکٹرز کویت آئیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت صحت نے فرنٹ لائن بونس کے تحت آنے والے ورکرز کو “زیادہ خطرہ” اور “درمیانے اور کم خطرناک” میں درجہ بند کر دیا ہے۔ ہر کام کے دن کے لیے دو دن کے بونس کے ساتھ پہلی کیٹیگری ، دوسری کیٹیگری کی شرح وائرس کے دنوں میں ہر کام کے دن کے لیے ڈیڑھ دن اور تیسرا زمرہ ایک دن کے لیے ایک دن کی شرح کے حساب سے بونس وصول کرے گا۔ وزارت کے ہیلتھ زونز اور مرکزی محکموں نے ملازمین کے کوائف ، ان کے کام ، انہیں تفویض کردہ کاموں اور جس ادارے کے لیے وہ کام کرتے ہیں کو مکمل کرنے کے بعد ملازمین کے لیے نئے بیانات کی تیاری مکمل کرلی ہے اور عہد کے لیے نئے میکانزم پر عمل درآمد کی تیاری کے لیے وزارت کو بھیجا جائے گا جو کہ بونس کے حصول کے لیے ایک شرط ہے۔

دوسری طرف وزارت صحت نے جمہوریہ پاکستان سے تقریبا 200 ڈاکٹروں کی تقرری کے لیے طریقہ کار مکمل کر لیا ہے تاکہ آنے والے عرصے میں ان کی خدمات حاصل کی جا سکیں جب کہ وہ پہلے بھی “کورونا” وائرس کے دوران کام کر چکے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی دونوں ممالک کے مابین ہم آہنگی سے اب تک پاکستانی ڈاکٹرز، نرسوں و طبی عملے کے 7 بیج پاکستان سے کویت آ چکے ہیں جن کی کل تعداد لگ بھگ 1500 کے قریب ہے

ذرائع: کویت اردو نیوز 

اپنا تبصرہ بھیجیں