کویت میں 60 سالہ عمر رسیدہ تارکین وطن کا اقامہ لگنا ناممکن سا ہو گیا

حکومت کویت ہمیں ملک میں رکھنا ہی نہیں چاہتی” 60 سال سے بڑی عمر والے افراد کے فیصلے پر عوام کا ردعمل سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اس فیصلے کے بعد کہ 60 سال سے زیادہ عمر والے اور سیکنڈری اہلیت یا اس سے کم تعلیم یافتہ افراد کے ورک پرمٹ کی تجدید کی جاسکتی ہے تاہم انہیں ورک پرمٹ کی تجدید کی سہولت حاصل کرنے کے لئے 2000 دینار سالانہ فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس فیصلے میں شامل کچھ لوگوں کی رائے طلب کرنے کے لئے روزنامہ الرای کی جانب سے ایک سروے کیا گیا جس میں عوام کا منفی ردِعمل سامنے آیا۔ سروے کے دوران ایک فارم میں کام کرنے والے رہائشی ابو فیصل سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ “اس فارم سے سالانہ 2000 دینار کون کماتا ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ “وہ نہیں چاہتے کہ ہم کویت میں رہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ” 60 سالہ رہائشی کی عزت کی جانی چاہئے اور ان کی خدمات کی تعریف کی جانی چاہئے لیکن یہ سب الٹا ہو ہورہا ہے۔”

اس فیصلے سے متاثر ایک اور رہائشی ابو ترکی نے کہا کہ ” مجھے اپنی زندگی میں ایک ہزار دینار کا حساب نہیں معلوم، میرے اکاونٹ میں اتنا پیسہ کبھی نہیں رہا اور اب مجھ سے رہائشی اقامہ کی تجدید کے لئے 2،000 مانگا جارہا ہے” انہوں نے مزید کہا کہ ” میں اس دکان کے لئے کمپنی کو ہر ماہ 400 دینار ادا کرتا ہوں اور میرے پاس صرف 150 دینار بچتے ہیں۔ میں یہ رقم کس طرح ادا کروں گا؟ ایک اور کارکن نے کہا کہ “حکومت پوری دنیا کی مدد کرتی ہے تو وہ غریبوں سے 2000 دینار کیسے لے سکتی ہے؟ ہم میں سے بیشتر 150 دینار سے ذیادہ تنخواہ وصول نہیں کرتے ہیں۔” اس فیصلے سے متاثرہ افراد میں سے ایک کی اہلیہ نے کہا کہ “ہم 2000 دینار کہاں سے لائیں گے میرا شوہر غریب ہے”

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں