60 سالہ معمر افراد کے ’ ورک پرمٹ کی تجدیدپر پابندی ‘ کے فیصلے کی منسوخی مسترد؛ 1000کویتی دینار فیس، مہنگی انشورنس کی تجویز

سال کے آغاز سے ہی ، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کے تارکین وطن کے لئے ورک پرمٹ کی تجدید پر پابندی عائد کرنے اور ہائی اسکول یا اس سے نیچے کا سرٹیفکیٹ رکھنے والے کے فیصلوں پر غور کرنے کے لئے مسلسل غور کیا جارہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ غورو ٖ ہ اٹھانے والی ہیں۔ طویل انتظار کے بعد باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ اس ٹیم نے وزیر تجارت و صنعت ڈاکٹر عبد اللہ السلمان کی طرف سے اس فیصلے پر نظرثانی کے لئے کمیشن قائم کیا گیا جس نے اپنا کام ختم کیا اور ترمیم کا مسودہ وزیر کو پیش کیا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اگلے ہفتے کے دوران اس کا اعلان متوقع ہے۔ ذرائع نے بتایا ، “اس ترمیم کے ذریعے اس زمرے میں آنے والے افراد کوفیس میں کمی کر کے1,000 کویتی دینار کے عوض اپنے ورک پرمٹ کی تجدید کی اجازت دی جائے گی جو کہ سابقہ تجاویز کے مطابق 2,000 کو یتی دینارتھی اس کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتال سے ہیلتھ انشورنس کی ضرورت ہو گی جس کا پریمیم700 کویتی دینار سے کم نہیں ہو گا ۔

انہوں نے اس فیصلے کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا ، خاص طور پر چونکہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت (پی اے ایم) نے سال کے آغاز سے ہی اس پر عمل درآمد شروع کیا تھا اور اس پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ فیصلہ بالآخر وزیر کے ہاتھ میں ہے اور اس کے مطابق جس کو وہ مناسب سمجھیں۔ متوازی طور پر ، رکن پارلیمنٹ عبد اللہ التوریجی نے گذشتہ چھ ماہ میں اس کے نفاذ کے نتائج کا مطالعہ کرنے کے بعد اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی تجویز پیش کی ، اور اس میں ترمیم کرنے کے لئے ، ہر ایک تارکین وطن کے لئے خصوصی شرائط کی درخواست کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے 60 سال کی عمر اور اس کی تعلیمی قابلیت سے قطع نظر ورک پرمٹ کی تجدید کرنا چاہتا ہے۔ ان خصوصی شرائط میں تجدید کی فیسوں میں اضافہ ، نجی صحت انشورنس کا نفاذ ، اور تارکین وطن کے عہد برائے صحت کے مراکز اور سرکاری اسپتالوں کا دورہ نہیں کرنا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اعلی فیس کی ادائیگی کی ہے جو تارکین وطن پر لاگو ہوتی ہے ، اور ایسے مریض کی طرح سلوک کیا جائے جس کا پاس سرکاری ہیلتھ انشورنش نہیں ہےجو کہ اس کو سرکاری ہسپتال میں علاج کے قابل بناتی ہے۔

ذرائع: عرب ٹائمز کویت

اپنا تبصرہ بھیجیں