کویت: نجی اسکولوں نے اساتذہ کے سفر پر پابندی عائد کر دی، اساتذہ استعفیٰ دیئے بغیر سفر نہیں کرسکتے

نجی اسکولوں نے اساتذہ کے سفر پر پابندی عائد کر دی، اساتذہ استعفیٰ دیئے بغیر سفر نہیں کرسکتے۔

تفصیلات کے مطابق ملک سے باہر سفر کرنے پر نجی اسکول اپنے اساتذہ کی نوکریاں ختم کررہے ہیں۔ کچھ نجی اسکولوں نے اپنے ملازمین کو آگاہ کیا ہے کہ اگر اساتذہ ملک سے باہر کا سفر کرتے ہیں تو انہیں ہوائی اڈے کی مسلسل بندش اور دوبارہ وطن واپسی کی پریشانی کے پیش نظر اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہوگا۔ یہ شرط اس لئے رکھی گئی ہے کہ بصورت دیگر اسکول انتظامیہ کو قبل از وقت متبادل استاد تلاش کرنے کا موقع مل سکے۔

اس طرح کا ایک سرکلر ایک اسکول میں جاری کیا گیا جس کی ایک کاپی روزنامہ الانباء کو موصول ہوئی۔ جس میں واضح تھا کہ ملک کے غیر یقینی حالات اور ملک میں واپسی پرعائد پابندیوں کے پیشِ نظر یہ سخت طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ نجی اسکولوں کی متعلقہ شرائط کی چند قانونی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • اگر ملازم اپنی چھٹیوں کے دوران ملک سے باہر کا سفر کرنا چاہتا ہے تو اسے لازمی طور پر اپنا استعفیٰ پیش کرنا ہوگا اور اگلے 12 ستمبر کے مطابق بدھ کے روز ورکنگ ڈے کے آغاز پر سرکاری کام شروع نہ کرنے کی صورت میں کفیل کو حق حاصل ہے کہ لیبر قانون آرٹیکل نمبر 42 کے جرمانے پر عمل درآمد کریں جس میں کہا گیا ہے کہ “اگر ملازم کام کے دوران مسلسل سات دن یا بیس دن کی مدت کے لئے قابل قبول درخواست کے بغیر کام پر نہ آئے تو ملازم کو نوکری سے فارغ کردیا جاتا ہے اور آجر (کفیل) اپنے ملازم کو مستعفی سمجھ سکتا ہے۔
  • چونکہ ہوائی اڈے کو نہ کھولنے اور مسافروں اور دیگر افراد کی واپسی کی اجازت سے کسی بھی وجوہات یا ریاستی سطح پر کیے جانے والے احتیاطی اقدامات کے لئے کاروباری مالک ذمہ دار نہیں ہے لہٰذا انتباہ اور آگاہی ضروری ہے۔
  • اس سرکولر کا اختتام ایک اہم نوٹ کے ساتھ ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ یا اطلاع نامہ کے علم کے بغیر سفر کی صورت میں ہم لیبر لاء آرٹیکل نمبر 42 کی سزا کا اطلاق کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اس سرکلر کو اسکول کی متعدد خواتین ملازمین اور اساتذہ نے مسترد اور نامنظور کیا خاص طور پر چونکہ یہ ایک انفرادی فیصلہ ہے اور وزارت تعلیم کے تمام اسکولوں میں اسے عام نہیں کیا گیا ہے اور انہوں نے اسے اپنے حق میں غیر منصفانہ سمجھا ہے۔ اسکول کے طریقہ کار پر تبصرہ کرتے ہوئے تعلیمی ذرائع نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ اسکول کے مالکان نے مناسب فیصلہ لیا ہے کیونکہ وہ اگلے تعلیمی سال کے آغاز میں الجھن کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ اسوقت پوری دنیا غیرمعمولی حالات سے گزر رہی ہے ہر ایک کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی ذرائع نے واضح کہا کہ “تاہم اساتذہ یا ملازم کی خدمات ختم ہونے کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل طور پر ملازمین کے حقوق اور واجبات کی ادائیگی لازمی ہے۔

ذرائع: الانباء ۔ کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں