کویت: 60 سال سے زیادہ عمر غیر ملکیوں کے لئے بری خبر

کویت: 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے نئے فیصلے کے منتظر

تفصیلات کے مطابق ہائی اسکول سرٹیفکیٹ رکھنے والے 60 سال سے ذیادہ عمر والے تارکین وطن پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے فیصلے کے منتظر ہیں کہ وہ ورک پرمٹ کی تجدید کرنے پر پابندی کے فیصلے سے متعلق ضابطوں کی تیاری مکمل کریں اور نیا فیصلہ جاری کریں۔ روزنامہ الرای کی رپورٹ کے مطابق تارکین وطن کی مذکورہ قسم کے لئے اجازت ممکن ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ” پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس اس معاملے کا ایک بنیادی حل ہے۔ 60 سال سے زیادہ عمر کے تارکین وطن کئی دہائیوں سے اس ملک میں مقیم ہیں۔ انہوں نے برسوں کے دوران بڑے تجربات حاصل کیے ہیں جو یونیورسٹی کی ڈگریوں سے زیادہ اہم ہیں۔

پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت جو ضوابط تیار کررہا ہے اس کا مقصد لیبر مارکیٹ کی مہارت کی ضرورت کے مابین توازن قائم کرنا اور آبادیاتی نظام میں ترمیم پیدا کرنا ہے۔ اس گروپ کے لئے کام کی اجازت کی تجدید کا ایک سب سے اہم حل پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کا نفاذ ہے جو اس افہام و تفہیم پر مبنی ہے کہ اس سے صحت عامہ کے شعبے پر کسی بھی قسم کا اضافی دباؤ نہیں پڑے گا۔ گردش کرنے والے خیالات میں سے ایک یہ ہے کہ انشورنس پالیسی کی سالانہ قیمت 500 دینار ہونی چاہئے تاہم انشورنس سیکٹر میں متعلقہ فریقوں کے مطابق قیمت کا تعین پالیسی کے تحت کی جانے والی سروس سے ہونا چاہئے اور مذکورہ بالا رقم غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

ذرائع نے اس معاملے کے ساتھ انشورنس مارکیٹ میں ماہرین سے رجوع کیا اور یہ بات علم میں آئی کہ 60 سال کی عمر تک پہنچنے والے اگر رہائشی اقامہ کی تجدید کرنا چاہتے ہیں تو ان لوگوں کے لئے ایک سال کے لئے ہیلتھ انشورنس کی قیمت 1،000 سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس عمر کے لئے جاری کردہ دستاویزات ان کی ” زیادہ خطرے ” کے گروپ میں درجہ بندی کرتے ہیں اور ان میں عام طور پر دائمی بیماریاں موجود ہوتی ہیں۔ متعلقہ فریقوں نے روشنی ڈالی کہ تشخیصی عمل بہت ساری شرائط سے مشروط ہے جیسے انشورنس کوریج کی شرح ، اس کی فراہم کردہ سروس ، اخراجات کا حصہ ادا کرنے میں مؤکل کی شراکت اور نجی شعبے میں علاج محدود کرنا یا شراکت کے ساتھ طبی خدمات مہیا کرنا۔

گلف انشورنس گروپ کے سی ای او طارق الصحف نے اس وقت ایک موجودہ ماڈل پر روشنی ڈالی جس کو اس معاملے میں رہنما کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جو “عافیہ” انشورنس ہے۔ یہاں پالیسی کی قیمت 1000 دینار سے تجاوز کر گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ 500 دینار میں پالیسی کی تخمینی قیمت اس عمر کے گروپ کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کرسکتی ہے۔ دریں اثنا زم زم تکافل انشورنس کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر محجوب المحجوب نے کہا کہ “60 سال کی عمر تک پہنچنے والوں کے لئے رہائشی اقامہ کی تجدید کے طریق کار کی خصوصیات کے انکشاف کرنے کے بعد کچھ کمپنیوں نے مناسب قیمت کا تعین کرنے کے لئے اپنے عملی مطالعات کا آغاز کردیا ہے۔

المحجوب نے وضاحت کی کہ “اس گروپ کے لئے پہلے جاری کردہ انشورنس پالیسیوں کے تجربات کے مطالعے کے مطابق اور انشورنس ، تکنیکی اور قانونی ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے جو نئے انشورنس ریگولیٹری یونٹ قانون نمبر 125/2019 کے ایگزیکٹو قواعد و ضوابط کے مطابق ہے ایک سال کے لئے انفرادی پریمیم کی سب سے کم قیمت کا تخمینہ 950 دینار لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ”اگر آپ ان افراد کی موجودگی کو مدنظر رکھیں جو اپنے رہائشی اقامہ کی تجدید چاہتے ہیں اور انہیں بیماریاں بھی ہوں تو کمپنیوں کو انشورنس پریمیم میں اضافے کی ضرورت پڑسکتی ہے تاکہ انہیں صحت کے معاملات کے لئے انشورنس کوریج سے انکار نہ کرنا پڑے نیز طبی علاج کے لئے ایک طریقہ کار مرتب کریں۔ المہجوب نے مزید کہا کہ “سب سے اہم فیصلہ علاج معالجہ ہے آیا ان کا علاج صرف نجی شعبے تک ہی محدود ہوگا یا وزارت صحت اس عمل میں شامل ہوگی اس معاملے میں یہ ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا۔ اگر علاج صرف نجی شعبے تک ہی محدود ہوگا تو 1000 دینار پالیسی کیلئے قیمت کافی نہیں ہوگی تاہم وزارت صحت کی شراکت میں اور یہ یقینی بنانا کہ آیا کلائنٹ بل کا کچھ حصہ خود ادا کرے گا تو پالیسی 1000 دینار کی حدود میں رہ سکتی ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں