کویت: تین دن کے قرنطین اور پی سی آر ٹیسٹ نے مسافروں کو الجھن کا شکار کردیا

تین دن کا قرنطین اور پی سی آر ٹیسٹ نے مسافروں کو الجھن کا شکار کردیا ہے۔

روزنامہ الرای کی رپورٹ کے مطابق ملک میں آنے والے مسافروں کو تین دن کے قرنطین اور آمد پر پی سی آر ٹیسٹ کی غلط فہمی نے شدید الجھن کا شکار کردیا ہے۔ ملک میں پہنچنے والے مسافروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہدایات دی گئیں ہیں کہ انہیں تین دن تک گھر کے قرنطین کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مسافر کورونا سے پاک ہیں تاہم صحت کے شعبے سے وابستہ ایک ذرائع نے واضح کیا کہ مسافروں پر قطعی طور ایسی کوئی شرط نہیں ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ واپسی کے تین دن کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہے اور نتائج کا انتظار کرنے کے لئے تین دن گھریلو قرنطین گزارنا ہوتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ جب تک پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ وائرس سے متاثر ہیں یا نہیں مسافر گھر میں ہی قرنطین رہیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسافروں کا پہلے دوسرے یا تیسرے دن کے اندر پہنچنے پر ہی پی سی آر ٹیسٹ ہوگا لیکن یہ تین دن سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔

ایک خاتون شہری نے عدم اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ وزراء کونسل کے فیصلوں سے وسیع پیمانے پر علاقائی اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو مطلع نہیں کیا گیا تھا مثال کے طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کو قرنطین چھوٹ سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال تک گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور کیا گیا اس کے بعد انہیں جہاز میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی تاہم کویت ہوائی اڈے پر پہنچنے پر انہیں پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرتے ہوئے قرنطین کی ضرورت کے بارے میں بتایا گیا۔

ایک اور مسافر نے شکایت کی کہ انہیں کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واقع پی سی آر ٹیسٹ لیبارٹری کے بارے میں کویت مسافر پلیٹ فارم کے ذریعے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ مسافر پریشان ہیں کہ پلیٹ فارم پر مذکورہ کچھ لیبارٹیاں ہوائی اڈے کے اندر واقع ہیں جبکہ دیگر باہر ہیں۔ جانے والے متعدد مسافروں نے ٹکٹوں کے منسوخ ہونے کی وجہ سے شہریوں کے سفر پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بارے میں بھی شکایت کی۔

روزنامہ نے کہا کہ کچھ شہریوں نے وزراء کونسل کے اقدامات پر سوال اٹھایا جو شہریوں کی آزادی پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ کویتی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کے بیرون ملک تجارتی مفادات ہیں دوسرے گرمیوں کی چھٹیوں میں تفریحی سفر کرنا چاہتے تھے اور کچھ دوسرے ممالک میں رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بلاامتیاز شہریوں کو سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر ازسرنو غور کریں کیونکہ سفر کے قوانین میں بار بار تبدیلی کے باعث انہیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ذرائع: کویت اردو نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں