سعودی عرب کی ویکسین سے متعلق نئی شرط پاکستانی مسافروں کو مشکل میں ڈال دیا

سعودی حکومت کی تجویز کردہ ویکسین میں چین کی تیار کردہ ویکسین شامل نہیں ہے

سعودی عرب کی ویکسین سے متعلق شرط نے پاکستانی مسافروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت کی تجویز کردہ ویکسین میں چین کی تیار کردہ ویکسین شامل ہی نہیں ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے فائزر ، آکسفورڈ، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین تجویز کی گئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے تجویز کردہ ویکسین نہ لگوانے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ لازمی ہوگا جس کے اخراجات مسافر کو خود ادا کرنا ہوں گے اور تجویز کردہ شرائط پر عمل درآمد رواں ماہ 20 مئی سے ہو گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکستان میں زیادہ تر افراد کو چین کی تیار کردہ کورونا ویکسین لگائی جا رہی ہے جس کے باعث پاکستانیوں کو سعودی عرب جانے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی کورونا ویکسین لگانے کا آغاز ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔

اس وقت سعودی عرب بھرمیں 587 ویکسی نیشن مراکزکام کررہے ہیں۔ وہاں شہریوں اور مکینوں کو کووڈ-19 کی ویکسین مفت لگائی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی جانب سے 17مئی سے بین الاقوامی پروازوں پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ العربیہ نیوز کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کو لازمی طور پر قرنطینہ اختیار کرنا ہو گا۔ تاہم کچھ زمروں کے افراد کو قرنطینہ کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ویکسین لگوائی ہو تاہم سعودی عرب کی تجویز کردہ ویکسین میں چین کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسین شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔

ذرائع: اُردو پوائنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں