سماجی کارکن کو ٹویٹ کرنے پر قید کی سزا، اردغان حکومت تنقید کے نشانے پر

ترکی کے رکن پارلیمان اور سماجی کارکن کو دو سال قید کی سزا دینے پر وزیراعظم رجب طیب اردغان کی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق رکن پارلیمان عمر فاروق کو ترکی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کرنے پر دو سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
ترکی کی عدالت نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ رکن پارلیمان عمر فاروق کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم رجب اردغان کی حکومت نے عمر فاروق پر کردستان ورکر پارٹی سے رابطے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔
عمر فاروق کو دشت گردی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ عمر فاروق پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے کرد تنازعے اور امن عمل کا تسلسل ٹوٹنے سے متعلق خبر ری ٹویٹ کی تھی۔
انسان حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عہدیدار میل میلینا بویوم نے عرب نیوز کو بتایا کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر سزا دینا عمر فاروق کو خاموش کروانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کرنے پر کسی بھی شخص کو عدالتی ہراسگی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔‘
گزشتہ سال عمر فاروق نے خواتین قیدیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ ملک بھر کی جیلوں میں انہیں ذلت آمیز رویے اور نامناسب جسمانی تلاشی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترکی کی جیلوں میں قید ہزاروں افراد نے پولیس کی جانب سے جنسی تشدد کا سامنا کرنے کی شکایت کی ہے تاہم ترک وزیر داخلہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے رکن پارلیمان عمر فاروق کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
عمر فاروق کے بیٹے صالح نے عرب نيوز کو بتایا کہ ’موجودہ حکومت کو ریاست کے ہر کمزور طبقے سے بات چیت کرنی چاہیے، چاہے وہ آرمینین ہوں یا کرد۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں