بِٹ کوائن کرنسی کی قیمت پہلی بار 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی

ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت پہلی بار 50 ہزار ڈالر سے زائد ہو گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو یورپین ٹریڈنگ کے دوران بٹ کوائن کی قیمت 50 ہزار پانچ سو 47 ڈالر اور 70 سینٹ تک جا پہنچی جو بعد میں 49 ہزار دو سو 13 ڈالر اور 54 سینٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔
کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے بڑے ناموں کی جانب سے بھی دنیا کی مشہور ترین ورچوئل کرنسی کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
رواں سال کے آغاز سے اب تک اس کرپٹو کرنسی کی قیمت میں 75 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ٹریڈنگ سے وابستہ ایک ماہر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر تک جا سکتی ہے۔‘
بٹ کوائن کی قیمت میں گذشتہ برس مارچ سے اس وقت اضافہ ہونے لگا جب آن لائن پیمنٹ کمپنی پے پال نے کہا کہ ’وہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کرپٹو کرنسی کے استعمال کی اجازت دے گا۔‘
گذشتہ ہفتے ایلون مسک کی الیکڑک کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے بٹ کوائن میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اس کی قیمت 45 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی۔
اس کے علاوہ ٹیسلا نے اس کی گاڑیاں خریدنے والے گاہکوں سے ورچوئل کرنسی قبول کرنے کے منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے۔
سنہ 2009 میں لانچ ہونے والے بٹ کوائن کو 2017 میں اس وقت شہرت ملی جب اس کی قیمت جو جنوری میں ایک ہزار ڈالر تھی، دسمبر میں 20 ہزار ڈالر تک جا پہنچی۔
تاہم اکتوبر 2018 میں اس کی قیمت پانچ ہزار ڈالر سے بھی نیچے آگئی تھی۔
ورچوئل یا کرپٹو کرنسی میں بِٹ کوائن سب سے بڑے برینڈ کے طور پر سامنے آرہا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں روایتی کرنسی کے متبادل کے طور پر اسے قانونی حیثیت بھی دی گئی ہے۔
بٹ کوائن کو ڈیجیٹل گولڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس میں کسی بھی بینک کے بغیر دو گروپس یا افراد کے درمیان بلاک چین کے ذریعے ترسیل کی جاتی ہے۔
روایتی کرنسی کا تمام ریکارڈ مرکزی بینک اور اس کی ترسیل بینک کی اجازت کے ساتھ مشروط ہوتا ہے جبکہ کرپٹو کرنسی لینے اور دینے والے کے درمیان ہی رہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں