بامبے بیگمز: ’ضروری نہیں کہ بیگم صرف محلوں میں رہے‘

بیگم کا تصور محلوں اور شاہی خاندانوں سے اس قدر منسلک ہے کہ اسے کسی دوسرے استعارے میں دیکھ سکنا قدرے عجیب لگتا ہے۔
چانچہ ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر مارچ کے پہلے ہفتے میں ریلیز ہونے والی نئی سیریز ’بامبے بیگمز‘ کی ہدایت کار نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور اس کا تعارف پیش کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’ضروری نہیں ہے کہ بیگم صرف محلوں میں رہے، کبھی کبھی وہ بورڈ رومز میں بھی ملتی ہے۔ بامبے بیگمز صرف نیٹ فلکس پر۔‘
انڈیا کی خبررساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق بابمے بیگمز ویب سیریز کی نمائش عالمی یوم خواتین کے موقعے پر یعنی 8 مارچ سے شروع ہو رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے اس سیریز کی ہدایت کار النکریتا شریواستوا کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ سیریز ممبئی کی پانچ ماڈرن خواتین پر مبنی ہے اور اس میں لیڈ رول اپنے زمانے کی معروف اداکارہ پوجا بھٹ کر رہی ہیں۔
پوجا بھٹ اداکارہ کے ساتھ فلم ساز بھی رہ چکی ہیں اور وہ عالیہ بھٹ کی بہن ہیں جبکہ معروف ہدایت کار اور فلم ساز مہیش بھٹ ان کے والد ہیں۔
اس ویب سیریز میں پوجا بھٹ کے علاوہ شاہانہ گوسوامی، امروتا سبھاش، پلابیتا بورٹھاکر اور آدھیا آنند ہیں۔
اس میں معروف اداکار راہل بوس بھی نظر آئیں گے جو اپنے مختلف قسم کے سنجیدہ کردار کو نبھانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ویب سیریز کی ہدایت کار النکریتا شریواستو اپنی فلم ’لپ سٹک انڈر مائی برقعہ‘ اور ’ڈالی کٹی اور وہ چمکتے ستارے’ کے لیے معروف ہیں۔
انھوں نے ویب سیریز کی کہانی سے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس سے انڈیا اور دنیا بھر کی خواتین خود کو کنیکٹ کر پائیں گی۔
ہدایت کار النکریتا شریواستو نے کہا کہ اس ویب سیریز میں انڈیا کی چند اقتدار اور اختیار کی خواہش اور کامیابی پر نظر رکھنے والی ورکنگ خواتین کی پیچيدہ کہانی اور ان کے سفر کو پیش کیا گیا ہے۔ انھیں مختلف محاذ پر لڑنا پڑتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ ان خواتین کی روزانہ کی زندگی کی کہانی ہے، ان کے خوابوں کی کہانی ہے جو کبھی پوری نہیں ہوتی اور دفن ہو جاتی ہیں اور کبھی پوری ہو جاتی ہیں۔‘
النکریتا شریواستو کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہری زندگی کی حقیقت کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہاں ورکنگ وومن کو کس طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
اس میں میٹروپولیٹن سٹی میں رہنے والی مختلف دور کی پانچ خواتین کی زندگی کو پیش کیا گيا جو اپنی خواہشات، اخلاقیات اور ذاتی بحران سے نبرد آزما ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں