یورپ میں کورونا وبا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں لوگ کورونا کے خلاف ’تحفظ کے جعلی احساس‘ میں مبتلا نہ ہوں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے جمعرات کو کہا ہے کہ یورپی ممالک میں کیسز کی تعداد میں کمی کے باوجود کورونا کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے ڈائریکٹر ہنس کلوج نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’کیسز میں کمی وبا کی نئی اقسام اور کمیونٹی میں پھیلاؤ کو چھپاتی ہے۔
یورپی خطے کے 53 ممالک میں ہر ہفتے 10 لاکھ سے زائد کورونا کیسز سامنے آتے رہے ہیں لیکن گذشتہ چار ہفتوں سے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
اموات کی تعداد میں بھی گذشتہ دو ہفتوں سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس صورتحال پر کلوج کا کہنا ہے کہ ’اس مرحلے پر یورپی ممالک کی اکثریت خطرے میں ہے اور اب ویکسین کی امید اور تحفظ کے احساس کے بیچ ایک پتلی لکیر موجود ہے۔‘
یورپ میں اب کورونا ویکسین کی خوراکوں کی تعداد چار کروڑ 10 لاکھ ہے۔ جو وبا کے آغاز سے اب تک سامنے آنے والے تین کروڑ 60 لاکھ کیسز سے زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر کے مطابق ویکسینیشن کا آغاز کرنے والے 37 ممالک میں سے 29 کے ڈیٹا کے مطابق 78 لاکھ لوگوں کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ تعداد ان ممالک کی آبادی کا صرف ایک اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔‘
ہنس کلوج نے مزید کہا کہ ’ویکسین ضروری ہے لیکن وہ ابھی تک وبا پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے یورپی خطے کے 38 ممالک میں برطانیہ میں سامنے آنے واالی وائرس کی نئی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ جبکہ 19 ممالک میں جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی نئی قسم کے کیسز کا پتہ چلا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں