بائیڈن کا چینی صدر کو فون، سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے چینی ہم منصب سے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ چینی صدر شی جنپنگ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان بات چیت کے دوران ’صدر جو بائیڈن نے چین کی جابرانہ اور غیر منصافانہ معاشی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق صدر جو بائیڈن نے صدر شی کے ساتھ گفتگو میں ہانک کانگ میں جمہوریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران امریکی صدر نے ’خطے میں بالخصوص تائیوان کی جانب چین کی جابرانہ پالیسیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔‘
صدر بائیڈن نے چینی نئے سال کے آغاز پر چین کی عوام کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اے ایف پی کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار سالہ دور کے بعد نئے صدر نے چین کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی بنیاد رکھی ہے۔
صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالتے ہی چین کے ساتھ تعلقات میں اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے اپنے چینی ہم منصب کو چیلنج کرتے ہوئے جنوبی بحرِ اوقیانوس میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی مخالفت بھی کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں جو بائیڈن نے چینی صدر کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکی عوام کی سکیورٹی، خوشحالی، صحت اور انداز زندگی کو محفوظ بنانا امریکہ کی ترجیح ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے جنوبی بحر اوقیانوس پر چینی اثر و رسوخ کے حوالے سے کہا کہ اسے ’آزاد اور کھلا‘ ہونا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان کورونا کی عالمی وبا، موسمیاتی تبدیلیوں اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے چین کے ساتھ عملی اور نتیجہ خیز تعلقات استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو امریکی عوام اور اتحادیوں کے مفادات کی ترجمانی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں