صدارتی ریفرنس، ’الیکشن کمیشن شیڈول کے مطابق کام جاری رکھے

پاکستان کی سپریم نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات کے لیے اپنا کام شیڈول کے مطابق جاری رکھے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔
جمعرات کے روز بھی اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اپنے دلائل جاری رکھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سینٹ اور اسمبلیوں کے انتخابات آئین کے تحت ہوتے تو الیکشن ایکٹ کی ضرورت نہیں تھی۔‘
جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کیا کہ ’بلدیاتی انتحابات الیکشن ایکٹ پر کرائے جاتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین اور قانون بلدیاتی انتحابات کا مکمل میکانزم فراہم کرتا ہے۔
ان کے مطابق ’بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹس نے لوکل حکومتوں کے عہدیداروں کا الیکشن سیکرٹ قرار دیا۔ بلدیاتی انتحابات میں سندھ ہائی کورٹ میں، میں پیپلز پارٹی کا وکیل تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا جو موقف بلدیاتی انتحابات میں تھا وہی اس ریفرنس میں ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے، میرا موقف آج بھی وہی ہے۔ سینٹ کے انتحابات پر آرٹیکل 226 کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’سینیٹ کے گزشتہ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہوئے تھے، کیا خفیہ ووٹنگ آرٹیکل 226 کے تحت ہوئی تھی؟‘
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ خفیہ رائے شماری انتخابی قوانین کی شق 122 کے تحت ہوئی تھی۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’آرٹیکل 140 اے واضح ہے کہ مقامی حکومتیں قانون کے تحت بنیں گی۔ قانون سازی کرنے والوں نے خفیہ رائے شماری کی شق شامل کی تھی۔ قانون سازوں کی مرضی خفیہ ووٹنگ برقرار رکھیں یا نہ رکھیں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’آئین کے تحت ہونے والے انتحابات کا الیکشن ایکٹ میں ذکر ہی نہیں۔ الیکشن ایکٹ ختم کر دیں تو سینٹ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو روسٹرم پر بلا لیا اور استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کیا شیڈول بنایا ہے؟
وکیل الیکشن کمیشن نےعدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے آج سینٹ الیکشن کے لیے شیڈول کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ کل سے شیڈول کے مطابق امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ تین مارچ کی تاریخ سینٹ انتخابات کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپرز چھاپنے اور دیگر تیاریوں کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ شیڈول کے مطابق اپنا کام شروع کریں فیصلہ دینا عدالت کا کام ہے۔
عدالت نے ہدایت جاری کی کہ پیر کے روز اٹارنی جنرل 15 منٹ میں اپنے دلائل مکمل کریں گے۔ اٹارنی جنرل کے بعد سینیٹر رضا ربانی دلائل دیں گے۔ چاروں ایڈووکیٹ جنرلز میاں رضا ربانی کے بعد عدالت کے روبرو دلائل دیں گے۔
کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن نے صدارتی ریفرنس میں فریق بنتے ہوئے صدارتی ریفرنس خارج کرنے کی استدعا کر دی ہے۔
مسلم لیگ ن نے بیرسٹر ظفراللہ کے ذریعے جمع کروائے گئے، تحریری جواب میں موقف اپنایا ہے کہ سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہونے چاہییں، عدالت قرار دے سینیٹ انتخابات پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے صدارتی آرڈیننس کو چیلینج کر دیا
پاکستان بار کونسل نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جاری صدارتی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا ہے۔
پی سی بی نے صدارتی آرڈیننس کو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت چیلنج کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ آرڈیننس کو آئین سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں