سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش، کے ٹو پر ایک اور خصوصی مشن روانہ

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر موسم سرم کی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے محمد علی سدپارہ اور ان کے دو ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے خصوصی مشن بھیجا گیا ہے۔
عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعرات کو ایک خصوصی سرچ و ریسکیو مشن لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش میں نکلا ہے۔
اس سرچ مشن میں لاپتہ کوہ پیماؤں کی فضا سے تلاش و نشاندہی کے لیے سپیشل انفراریڈ کا استعمال کیا جائے گا جبکہ بلندی پر جانے والے کلائمبرز کو بھی اس وقت شامل کیا جائے جب خصوصی مشن کو کہیں سے کوئی سراغ یا نشان ملے گا۔
عسکری ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’قومی ہیرو علی سدپارہ اور ان کی بہادر ٹیم کے ارکان آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ژاں پابلو موہر کی تلاش کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران موسم کی خرابی کے باعث کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کی مہم روک دی گئی تھی۔
علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما جمعہ پانچ فروری کو کے ٹو سر کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ساجد علی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں علی سدپارہ اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو گئے۔
یاد رہے کہ علی سدپار 2016 میں موسم سرما میں پہلی بار نانگا پربت سر کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ وہ نانگا پربت کی چوٹی چار بار سر کر چکے ہیں جب کہ 2018 میں کے ٹو سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں