ترقیاتی فنڈز کیس: ’وزیراعظم سیکریٹری کے پیچھے کیوں چھپ رہے؟؟؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے کیس کے دوران وزیراعظم کے سیکریٹری کی جانب سے بھیجا گیا جواب مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم سے ذاتی حیثیت میں دستخط شدہ جواب مانگ لیا ہے۔
جسٹس قاضٰی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیےکہ ’وزیراعظم یا اپنی بات پرقائم رہیں یا کہہ دیں ان سے غلطی ہو گئی، سیکریٹری کے پیچھے کیوں چھپ رہے؟‘
بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے وزیراعظم کے سیکریٹری کا خط عدالت میں پیش کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’وزیراعظم نے کہا ہے کہ کسی رکن اسمبلی کو پیسہ نہیں دیا جائے گا، اراکین اسمبلی کی ترقیاتی سکیموں پرعمل آئین سے مشروط ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پوچھا کہ وزیراعظم کے سیکریٹری کا خط کس نے ڈرافٹ کیا؟ اٹارنی جنرل نے اسے وکیل اور موکل کا آپس کا معاملہ قرار دیا تو جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ ’خط کی انگریزی درست نہیں، عدالتی سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔ لگتا ہے وزیراعظم نے عدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا۔ وزیر اعظم نے شاید فنڈز دینے کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کی۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’ویسے تو صبح سے شام تک پراپیگنڈے کی بھرمار رہتی ہے۔ اس معاملے پر کیوں خاموشی اختیار کی گئی۔
اٹارنی جنرل نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا نہ کہیں، لچک کا مظاہرہ کریں۔ وزیراعظم ہرخبر کی تردید کرنے لگ گئے تو کوئی اور کام نہیں کرسکیں گے۔
جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے میڈیا کی آزادی کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم کے جواب میں دوٹوک موقف اختیار نہیں کیا گیا۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’پانچ سو ملین روپے اراکین کو نہیں دیے۔ مزید سکیم بھی زیر غور نہیں تحریری جواب میں بتائیں۔‘
چیف جسٹس نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی تجویز پر سیکریٹری خزانہ کے تحریری جواب پر وزیرعظم کے دسختط کی بھی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے سندھ حکومت کا جواب نہ جمع کرانے کی وجہ پوچھی تو وکیل صوبائی حکومت نے بتایا کہ سندھ حکومت نے کسی رکن اسمبلی کو فنڈزنہیں دیے۔
سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں سے ترقیاتی فنڈزسے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں