سانچ کو آنچ کہاں

دنیا میرے بارے میں کیا سوچتی ھے سوچتی رہے میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نفسا نفسی کے دور میں بھی لوگ اپنی بجائے میرے بارے میں سوچتے ہیں

گزرتا سال ایک اور زندگی کا لمحہ کم کر گیا۔۔ان گزرتےسالوں نے جہاں مجھ سے بہت کچھ چھینا وہاں دیا بھی بہت کچھ ھے ۔۔۔۔۔۔زندگی اصل اسی کی ھے جس کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ آ گیا۔۔۔ہر گزرتا سال جہاں میری آپ کی عمر کو کم کر گیا وہاں آپ پر فتح و کامرانی کے دروازے بھی کھول گیا میں نے زندگی میں ہمیشہ گول سیٹ کئے جن کو حاصل کرنے میں سارا سال محنت کوشش کی آج سال کے آخری لمحات میں میرا سینہ خوشی سے پھولا نہ سما رہا ھے کہ میں اپنے اس سال کے تقریبا ستر فیصد گول پورے کر لئے۔۔جو حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں ۔۔آج کی آخری شب میں نئے سال میں ایک نئے عزم کو لے کر داخل ہو گیا ہوں کہ اس سال میں میرا سفر اپنی منزل کے اور قریب ہو گا۔۔۔
میں یہاں رک کر ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میرے مقاصد کو حاصل کرنے میں میرا ساتھ دیا اور میرے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور طوفانوں میں میرے ساتھ کھڑے رہے بلکل نہ جھکے نہ بکے ان کی وفائوں کی بدولت میرا راستہ کھوٹا نہ ہوا میں نے منزل کو قریب جانا اس میں آپ کی وفا بھی شامل ھے ۔۔۔
اس کے بعد میں ان کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے بغیر کسی دشمنی کے بغیر کسی رنجش کےصرف حسد کی بنا پر میری مخالفت کی اپنی ہر مجلس ہر محفل میں مجھ پہ تبصرہ کیا میرے خلاف سارا سال سازشیں کرتے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے میں جب بھی راستے کی دشواری سے تھک کے رکا تو ان کی مخالفت ان کی شراکت داری اور ان کے کینہ نے میرے عزم کو بڑھا دیا مجھے جینا کا حوصلہ دیا اور میرے جسم و جان میں ایک طاقت بھر دی دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو میری مخالفت کر کے مجھے زندہ رکھتے تھے میری خامیوں کو دہرا کر میری اصلاح کا موقعہ مجھے دیتے تھے اس میں بالخصوص دوست اور طاقتور دوست تھے جنہوں نے مجھے یہ یقین دلایا کہ ان کی نظر میں خاص ہوں
۔۔۔میں شکر گزار ہوں ان لوگوں کا جو منافق دوست تھے اور انہوں نے مجھے مشکل میں گرانے کی کوشش کی میں ان کی منافقت کا شکار ہو کر گر تو نہ سکا لیکن انہوں نے مجھے خالص اور کھوٹے کی پہچان بتا دی۔۔۔۔سب سے زیادہ میں اپنے گروپ جنون فیملی ممبرز اور ان وفاداروں کا ممنون اور مشکور ہوں جنہوں نے میری کامیابی کا سفر یقینی بنایا میری حفاظت کی میرے لئے دعائیں کیں اپنا مال مجھ پہ خرچ کیا۔۔۔میری خامیوں کو درگزر کیا اور میرے ساتھ مثالی محبت کی جس کا میں مستحق بھی نہیں تھا۔۔۔
گزرتے سال کے ان آخری لمحات میں مجھے لگ رہا ھے کہ گزشتہ سارے تجربات ایک چیز مجھ میں مضبوط کر گئے کہ سارے انسان مل کے بھی کسی کا نقصان نہیں کر سکتے جب تک اللہ نہ چائے اس بات پہ یقین تو تھا ہی اس سال عین الیقین آگیا رب کا جتنا شکر کروں کم ہے اس نے نعمتوں کی بارش کر دی باوجود کمزور اور گناہگار ہونے کے۔۔۔لوگوں نے روکنا چاہا اس نے دینے کی حد کر دی لوگوں نے توڑنا چاہا اس نے پہلے سے بھی مضبوط کر دیا ۔۔۔ان آخری لمحات میں رب کریم کے حضور یہی دعا ھے کے نیا سال میں سب دوستوں کی دلی مرادیں پوری ہوں۔۔۔۔لوگو اپنی منزل پائیں اور رب کی رحمتوں کی بارش ہو۔۔۔کشمیر کو آزادی نصیب ہو۔ملک پاکستان کو اللہ خوشحالی نصیب فرمائے۔۔اور ایک نیا عزم لے کے صبح کا سورج میرا منتظر ہے جس میں میرے سارے خواب اپنی تکمیل کے راستے پہ گامزن ہیں زندگی نے وفا کی تو اگلے دسمبر تک اپنے خوابوں کی تکمیل پہ بطور جشن آج کے دن اللہ کی حمدو ثناہ بیان کروں گا تمام دوستوں دشمنوں اور دوست نما دشمنوں کا شکر گزار رہوں گا جن کے ہونے سے مجھے اپنا وجود بیش قیمت اور خاص لگتا ھے
بیشک نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے ھے اور جو بھی برائی ھے وہ میرے اپنے نفس کی طرف سے ھے

یہ تحریر 31 دسمبر 2020 کو شائع کرنی تھی مگر کسی خاص وجوہات کی بنا پر لیٹ ہو گئی
معذرت خواہ ہوں

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں