اشرف ضیاء صاحب مرحوم ۔ مشاہیر کویت

جنوری 14 ، 2020
پہلی برسی

اشرف ضیاء یاد ماضی
اب ہم میں نہیں رھے

جنوری 14 ، 2020
کی خبر جو آہوں سسکیوں میں اور غیر متوقع جو کوئی بھی پاکستانی سسنے کو تیار نہ تھا پاکستانی کمیونٹی کے اہم رکن اعلی شخصیت اشرف ضیاء مرحوم کی وفات کی خبر جو چند لمحات میں ہی اس دنیا فانی سے ابدی نیند سو گئے اور اگلے جہان سدھار گئے جس پاکستانی نے بھی سنا ایک دفعہ دل تھام کر بیٹھ گیا اور ششدر رہ گیا یہ اللہ تعالی کی رضا ھے ہر کسی نے جانا ھے مگر اشرف ضیاء چند سیکنڈ میں ہم سے روٹھ گئے

اشرف ضیاء مرحوم کا تعلق جھنگ پاکستان سے تھا کویت میں 92 سے آئے بطور انجنیئر کویت گورنمنٹ جاب پر تھے اپنی فیملی کے ساتھ کویت میں مقیم تھے بڑے معصوم تھے مگر آج مرحوم ہو گئے 2020 کے ابتدائی ایام میں پاکستانی کمیونٹی کو جنوری کا یہ مہینہ ہمیشہ یاد رہے گااشرف ضیاء کا تعلق کویت کی سر زمین سے 30 سال تک رہا ۔
ہوا ھے تیرے بچھڑنے کے بعد یہ سب معلوم
تو کیا تھا ؟ جو تیرے ساتھ ایک جہاں تھا

بندہ مومن تھا اس کی پہچان بھی یہی تھی اس ہاتھ سے دو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔
اور جس کی زبان سے خلق خدا محفوظ رہی اسی طرح خلق خدا سے خوشگوار تعلقات کی استواری خدا کی خوشنودی کا وسیلہ بن جاتی ھے
اشرف ضیاء مرحوم اس بھید کو بھی پا گئے تھے کہ خوش اخلاقی سے مسکراہٹیں تقسیم کرنا آج کے دور نفسا نفسی کی اہم ضرورت ھے یہی وجہ ھے کہ اشرف ضیاء اس خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لٹاتے رہتے تھے اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر انسان کو گوناگوں فرحت کا احساس ہوتا تھا میرا تعلق بھی ذاتی طور پر ان سے رہا میں اشرف ضیاء صاحب کو ہمیشہ مسکراہٹ کی روشن دنیا میں افق پر چمکتے ہوئے ستارے کی مانند دیکھا اشرف ضیاء خوبصورت فہم و فراست اور تعلیم یافتہ تھے ان کی پہچان یہ تھی کہ یہ اندر باہر سے ان تمام خوبیوں کے مالک تھے جو ایک مومن صفت انسان میں ہوتی ہیں اشرف ضیاء کی طرف گہری نظر سے اگر اخلاقیات کا مشاہدہ کریں تو یہ شخص چھپا رستم تھا پس پردہ بے شمار اصفات ان کے 65 سالہ ادوار کو رنگین اور معطر فضا کو خوشبودار بنا دیتی تھیں
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اشرف ضیاء کا ماضی بے داغ کسی بھی ستم سے پاک فرشتہ صفت انسان تھے
اشرف ضیاء کو ایک قابل ذکر وصف کو نصاب زندگی کا روشن ترین باب قرار دیا جا سکتا ھے
تاھم سماجی بہبود اور خدمت خلق کا جذبہ ان کی ذات والا صفات میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا
سنا ھے شریف آدمی ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے رویئےسےکسی دوسرے شخص کے احساسات مجروح نہ ہوں شریف آدمی کی یہ تعریف اشرف ضیاء کی ذات اقدس پر پوری طرح صادق آتی ھے حد تو یہ ھے کہ اگر کوئی شخص ان کی شان میں گستاخی کرے یا نازیبا الفاظ کہ کر انھیں اذیت پہنچائے تو یہ مشتعل ہو کر اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیتے تھے کسی سے اس غیر اخلاقی حرکت کا شکوہ نہ کسی کے سامنے اس واقع کی شکایت بلکہ یوں کہیئے کہ قہر درویش برجان درویش کے مصداق اسے خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتے ۔ اشرف ضیاء کی شخصیت سادگی سے آراستہ تھی معاملہ خوردونوش کا ہو یا انتخاب ملبوسات کا ہر دو صورتوں میں اشرف ضیاء کا ذوق سادگی سے عبارت ھے ویسے بھی اشرف ضیاء سادہ بودوباش میں یقین رکھتے تھے اکثر و بیشتر سفید کپڑوں میں ملبوس نظر آتے تھے ان کے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت نمایاں تھی اشرف ضیاء صاحب نرم گفتار شفیق اور شریف النفس انسان تھے ۔
آخر میں میری اور میرے رفقاء کی دلی دعا ھے کہ اللہ سبحان و تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے اور ان پسماندگان کو صبر جمیل کی سعادت سکون راحت سے ہمکنار کرے ۔
آمین ثمہ آمین

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں