محمدندیم اکبر

ایک گوہر حقیقی

خوش فہمیوں کے سلسلے بھی اتنے دراز ہیں
کہ ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار مجھ سے ہے

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

محمدندیم اکبر دو دہائیوں سے کویت میں برسر روزگار ہیں منڈی بہاؤالدین سے تعلق ہے یہیں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پروفیشنل کمپیوٹر گرافگ ڈیزائینگ پر توجہ دی ساتھ ساتھ لوکل میڈیا میں کمپوزنگ کے فرائض بھی انجام دیئے اور تعارف بھی کرایا لوکل میڈیا میں تعارف اور کمپوزنگ کا سہرا محمدندیم اکبر کے خواب کی سنہری تعبیر ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ پھر پاکستان سے باقاعدہ ایک علم و فن تجربات کی گھٹری لے کر تعلیم تربیت سے فارغ تحصیل ہونے کے بعد خلیج عرب ممالک کا سفر آگے اور آگے بڑھنے کی جستجو کی تلاش میں کویت میں اپنا مقام اور مقصد حاصل کرنے کے لئے دیس سے دور دیس آ گئے ۔

اداکار نہیں ہوں ورنہ نبھا جاتا سب رشتے
حقیقی بندہ ہوں اس لئے الگ رہتا ہوں

اور پھر یہاں کا ماحول اور پاکستانی کمیونٹی کا اخوت بھائی چارا اور ہم وطنوں سے قربت اور اخلاقی مدد کا بہتا ہوا دریا دیکھا تو ندیم صاحب سرگرم رکن بن گئے اور آج اعلی کارکردگی کی بدولت ایک اچھے بزنس مین بن گئے ہیں کامیابی کی وجہ ملنسار انکساری ادب اور دوستوں کے دوست ہیں ان کی اہم خوبی اپنے آپ کو غیر اہم اوردوسروں کو بڑا اہم سمجھتے ہیں

لوگوں کا کیا ھے لوگ تو زمین پر بیٹھ کر
چاند پر بھی داغ کی تہمت لگا دیتے ہیں

جو لوگ ان سے حسد کرتے ہیں ان کو ان کی خوبیوں کا علم ہوتا ہے جو لوگ ان کی پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہیں وہ ندیم صاحب کی خوبیوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں اور جو لوگ ان کو ہارا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل ان کی جیت سے خوف زدہ ہیں اس لئے یہ صاحب ہر اس شجص سے خوش رہتے ہیں جو ان سے نا خوش ہے ۔

اسے کہنا کہ مجھے اس کے بغیر رہنا نہیں آتا
بہت کچھ دل میں آتا ھے بس کہنا نہیں آتا

محمدندیم اکبر کا خاندانی پس منظر ان کے چہرے کے تاثرات واضع کرتا ہے شوق جنون ہے ان کے بارے لکھنا چاہوں تو ایک الفت کا نقشہ دل کے اندرون خانہ میں کروٹ لیتا ہے اور اس نوجوان کی محبت پیار خلوص کا شفاف آئینہ طلوع آفتاب کی طرح ٹھنڈی اور روشن مستقبل کی نوید سناتا ہے محمدندیم اکبر ایک اور قابل ذکر وصف کو نصاب زندگی کا روشن ترین باب قرار دیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ موصوف ہر انسان کی خیر خواہی کی سدا دل سے متمنی رہتے ہیں اور اللہ تعالی کی کسی بھی نعمت سے جب یہ فیض یاب ہوتے ہیں تو صدق دل سے دعا مانگتے ہیں کہ اے قادر مطلق کہ جس عنایت سے تو نے مجھے نوازا ہے اسی طرح اپنے اور بندوں کو بھی تو نواز دے اگر یہ وصف معاشرے کے چند فیصد انسانوں میں پیدا ہو جائے تو زندگی کتنی خوشگوار بن جائے

لوگ اس وقت ہماری قدر نہیں کرتے جب ہم اکیلے ہوں
لوگ اس وقت ہماری قدر کرتے ہیں جب وہ اکیلے ہوں

بات وہی ہے نیک نامی اس خاندان کا خاصہ اور نسل بعد نسل ورثہ رہی ھے خواہ میدان اور شعبے الگ الگ ہی کیوں نہ رہے ہوں اپنی انہی خاندانی روایات کو سینے سے لگائے اپنے بزرگوں کا حق ادا کرنے میں کمر بستہ ہیں
اخلاق اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنا وہ واحد طریقہ ھے جس کے ذریعے ہم خود اور دوسرے لوگ سکون کے ساتھ امن کے ساتھ چین کی زندگی بسر کر سکتے ہیں یہ تمام
اوصاف محمدندیم اکبر کی آن اور شان کے عین مطابق ہیں ۔

اصولوں پر آنچ اگر آئے تو ٹکرانا ضروری ہے
زندوں میں اگر رہتے ہو تو زندہ نظر آنا ضروری ہے

( نوٹ)

یہ تحریر میری ذاتی رائے پر مبنی ھے اس میں کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے اس میں کسی طرح کی مماثلت محض اتفاق ہوگا

( تحریر و اشاعت )

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں