چوہدری غلام سرور کی دکھی تحریر

غیر تربیت یافتہ لوگوں کے نام

شعور تعلیم نہیں تربیت دیتی ھے

کون کہتا ھے کہ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے ؟ اگر تعلیم شعور دیتی تو روزانہ سڑکوں پر تعلیم یافتہ لاکھوں لوگ سڑکوں کے بیچ میں گاڑیاں کھڑی کر تے نظر نہ آتے ؟ آپ نے تعلیم اور شعور کا فرق دیکھنا ہو تو سڑکوں پر روزانہ سکول اور دفتری اوقات میں دیکھ سکتے ہیں جہاں اعلی تعلیم یافتہ افراد پروفیسرز اور ڈاکٹرز تین رویہ سڑک پر ہمیشہ تیسری رو میں گاڑیاں چلاتے نظر آئیں گے جبکہ پہلی دو لائینیں خالی بھی ہوں تب بھی ۔
میں اکثر سڑکوں پر تعلیم اور شعور کو خوب انجوائے کرتا ھوں جب میں پہلی یا دوسری خالی رو میں سکون سے ڈرائیو کرتا گزر جاتا ہوں مگر تعلیم یافتہ بے شعور لوگوں کو تیسری رو میں ایک دوسرے کے پیچھے ہارن بجاتے دیکھتا ہوں ؟

آپ روزانہ سوشل میڈیا پر لاکھوں بے شعور پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنے اپنے خداؤں یا پارٹی لیڈران کے دفاع میں اپنے رشتوں کے تقدس کو بھی اپنے پیروں کے نیچےمسلتے نظر آتے ہیں.
جبکہ شعور اچھی تربیت دیتی ہے.
میں نے زیادہ تر بے شعور پڑھے لکھے دیکھے ہیں اور بہت سے با شعور ان پڑھ دیکھے ہیں ؟
شعور کا تعلق اگر تعلیم سے ہوتا تو پڑھی لکھی لڑکیاں گھروں سے بھاگتی نظرنا آتی ؟ نہ پڑھے لکھے کالج اور یونیورسٹیوں کے بچے غلط راستوں پر چلتے نظر آتے
تعلیم اچھے مستقبل کی ضامن تو ہوسکتی ھے مگر ایک انسان کو شعور نہیں دے سکتی . شعور صرف تربیت دیتی ہے
شعور ہوتا کیا ہے؟ شعور اچھائی اور برائی صحیح اور غلط کے فرق میں تمیز کا معیار شعور کہلاتا ہے
آج اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں اسمبلیوں میں پڑھے لکھے بھیڑئے اور ٹھگ نظر نہ آتے ۔
آج اکر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں اپنی عدالتوں میں عدل کا خون کرتے قاضی نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں ہسپتالوں میں مسیحاؤں کے روپ میں بھیڑیئے نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمیں عدالتوں میں کالے کوٹ میں چھپے انسانوں کے سوداگر نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو سیاستدانوں کے روپ میں شعبدہ باز نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمارے سپاہ سالارز گھوڑوں اور گدھوں کی ٹریڈنگ کر کے ملک کی معیشت کو تباہ کرتے نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو ہمارے ملک کے سب ادارے اپنے اپنے کاموں کی نا اہلی کو چھپانے کے لیے دوسرے اداروں کے کام میں روڑے اٹکاتے نظر نہ آتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو سانحہ ساہیوال جیسے واقعات رونما نہ ھوتے ۔
اگر تعلیم شعور دیتی تو پولیس کی وردی کو داغدار کتنے والے ضمیر فروش نظر نہ آتے ۔
مگر کاش تعلیم شعور بھی دے سکتی

میں نے پانچ پانچ ، چھ چھ پڑھے لکھے ڈاکٹرز اور انجینئیز ، پروفیسرز کے والدین کو بڑھاپے میں بچوں کی زیادتیوں کا رونا روتے دیکھا ہے مگر میرا ان سے یہی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم تو دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر کاش وہ اچھی تربیت بھی دے سکتے تو آج گلے شکوے کرتے نظر نہ آتے؟ آج کے بوڑھے ماں باپ نے کل اپنے ماں باپ بڑوں کے ساتھ سلوک اور معاشرے میں ظلم و ذیادتی کا بچوں کو جو سبق پڑھایا تھا وہی سبق وہی تربیت آج ان کے سامنے آتی نظر آرہی ہے.
آج پڑھے لکھے بے شعور والدین سڑکوں پر بچوں کے سامنے گالم گلوچ اور ٹریفک کی خلاف ورزیاں معاشرے میں ظلم و زیادتی کی مثالیں قائم کر کے اپنے بچوں کو کیا شعور دے رہے ہیں؟
آج پڑھے لکھےسکولوں کے اساتذہ بچوں کو پیٹتے نظر آتے ہیں صرف اسی لیے کہ انہوں نے تعلیم تو حاصل کر لی مگر تربیت نے ان کے کردار سے شعور کو مار ڈالا ؟
اگر تعلیم شعور دیتی تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم کے لئے گھر سے نکالتے وقت خوفزدہ نظر نہ آتے اگر تعلیم شعور دیتی تو 10، 10 پڑھے لکھے بیٹوں کے والدین بڑھاپے میں لاوارث پڑے نظر نہ آتے؟
کاش ہم اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کے ذریعے اچھی تربیت کا بھی خیال رکھیں تو ہم اپنے گھر اپنے ملک کو جنت بنا سکتے ہیں؟
یہ ہم سب کے لئے سبق ہے کیونکہ میں ان دوست نما دشمنوں کو بھی جانتا جن کے چہروں پر کئی چہرے ہیں

تحریر و اشاعت
چوھدری غلام سرور، پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں