قائد اعظم محمد علی جناح

دسمبر 25 یوم پیدائش

قائد اعظم کی سالگرہ قوم کو مبارک ہو
محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ جیسے
عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے مائیں اس طرح کے بچوں کو جنم نہیں دیتیں ایسے انسانوں کے لئے تاریخ کو مدتوں منتظر رہنا پڑتا ھے زندگی سال ہا سال دیر و حرم کا طواف کرتی ھے تب کہیں کوئی ایسا انسان وجود میں آتا ھے جو صرف عظمت کے معیار پر ہی پورا نہیں اترتا بلکہ خود اسے دیکھ کر عظمت کا معیار قائم کیا جاتا ھے کون جانتا تھا 25 دسمبر1876 کراچی میں پیدا ہونے والا یہ بچہ دراصل شاعر مشرق کے اقبال کا ستارہ اور ایک اسلامی سلطنت کا بانی ھے محمد علی جناح کے والد سوداگر تھے جسم کے کمزور تھے ۔اور گجراتی زبان میں دبلے پتلے انسان کو جنا کہتے ہیں اس طرح ان کا نام جناح پڑ گیا قائد اعظم صحیح معنوں میں عظیم انسان تھے ان کے دبلے پتلے جسم میں ایک ایسا دل تھا جو استقلال اور عزم سے لبریز تھا ۔ قائد اعظم کو خدا پر پورا بھروسہ تھا آپ جب پاکستان کے لئے جد وجہد کر رہے تھے تو آپ کے بہت سے دشمن پیدا ہو گئے تھے مسلمانوں نے آپ کے لئے دستہ مقرر کرنا چاہا لیکن آپ نے پسند نہ فرمایا اور یہ کہا کوئی ضرورت نہیں ۔ میرا خدا میری حفاظت کرے گا جب پاکستان بننے کی باتیں شروع ہوئیں تو ہندووں اور انگریزوں نے مزاق اڑایا اپنوں نے غیروں کی ہمنوائی کی لیکن قائد اعظم کے مزاج کا سانچا کچھ اس طرح ڈھل گیا تھا کہ وہ لچکنا جانتے ہی نہ تھے وہ ٹوٹنا جانتے تھے مڑنا نہیں ناممکن کا لفظ ان کی لغت میں نہ تھا انھوں نے پاکستان کے لئے انتہائی جدوجہد کی ان کی کوششوں میں خلوص رھا اس لئے قدرت نے بھی ان کی مدد کی اور غیروں کی مخالفت اور اپنوں کی بیگانگی کے باوجود پاکستان بن کے رہا اور پاکستان نے اپنا وجود تسلیم کرا لیا ۔
قائد اعظم جب موت حیات کی کشمکش کی حالت میں تھے اور جب ان کو کراچی لایا گیا اور اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ آنکھیں کھول کر بند کرنے کی کی سکت نہ تھی آپ کو جب جہاز سے سٹریچر پر باہر لایا گیا تو فوج نے سلامی دی آپ نے جواب میں نہیں کا ہاتھ اٹھا دیا ڈاکٹر متعجب تھے کہ قائد اعظم میں زندگی کی رمق کہاں سے آ گئی ۔ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ قائد اعظم آخری دم تک صحیح معنوں میں قائد اعظم تھے پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے قائد اعظم کی کوششوں کا نتیجہ تھا ۔ ہم نے اسے بہت سی قربانیوں سے حاصل کیا تھا ۔ہمیں اسے مضبوط کرنا ھے ۔اس کے درودیوار کے رنگ و روغن کو اپنے خون سے دلآویز بنانا ھے ۔ یہ قیامت تک قائم ھے اور انشاءاللہ قائم رہے گا ۔ جب تک ایک پاکستانی بھی زندہ ھے پاکستان کا نام اور قائد اعظم بھی زندہ ہیں ان کا نام اور ان کی یاد ہماری متاع عزیز ھے ۔خواتین و حضرات مثالیں ہم دیتے ہیں قائد اعظم کے اقوال کی مگر سب منہ زبانی خرچ ھے یہ آج کے حکمران قائد اعظم کے پاوں کی دھول بھی نہیں ہیں قائد اعظم کی حکمرانی اور ان کا پروٹوکول شرمندگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں اب ہم بحثیت قوم آج کے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لئے کسی تقریر میں اور تحریر میں قائد اعظم کا ذکر اذکار کر کے ان کی بے ادبی اور توہین نہ کریں یہ قوم پر اور قائد اعظم پر احسان ہوگا اور اپنے ناپاک چہرے پر فنگر کو چپکا کر ، سجا کر فکر اقبال بنانے کی کوشش بھی نہ کریں اپنا مقابلہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے نہ کریں ۔ شیشہ صاف کر کے اپنا چہرہ صاف نہیں دیکھ سکتے ۔ یہ پاکستان عطیہ خدا وندی ھے اس کی قدر کیجئے اس ملک کی مثال کسی اور ملک سے نہیں دی جا سکتی خدارا قربان ہو جائیں اس دھرتی ماں پر یہ ہماری پہچان ھے یہ وطن ہماری جان ھے اس ملک نے آپ کو شناخت دی عزت دی آج جہاں بھی ہم بیٹھے ہیں کویت میں یا کہیں بھی پاکستان کی وجہ سے ہیں
پاکستان ہماری وجہ سے نہیں ھے ۔

قارئین کرام سے گزارش ھے کہ قائداعظم کے یوم ولادت پر خصوصی اشاعت پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں اگر آپ کو پاکستان اور قائد اعظم سے محبت
ھے تو لکھ کر اقرار کریں اور اپنے قلم سے پیغام دنیا تک پہنچائیں کہ ہم پاکستان قائداعظم ایک ہیں ۔
بڑی مہربانی ہوگی .

اشاعت و تحریر

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں