ڈاکٹر رتن کمار مسیحا کے روپ میں

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ھے پتھر کی چوٹ سے
پتھر بھی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

پاکستان کی دھرتی ماں کا خوبصورت نوجوان جس نے اپنے ماں باپ کا نام دیار غیر میں روشن کیا اور آگے اور آگے بڑھنے کا شوق و ذوق کویت کی سر زمین پر لے آیا پاکستان کے شہر سانگھڑ سے ابتدائی تعلیم سے سرفروش ہونے کے بعد لیاقت میڈیکل کالج جامشورو حیدرآباد سے ایم بی بی ایس کیا اور پھر اس کے بعد پوسٹ گریجویشن کے لئے کراچی سول ہسپتال سے ٹریننگ مکمل کی اور پھر آگے بڑھنے کی جستجو میں قدم جما کر روشن راہوں کی تلاش جاری رکھی جب کمر بستہ منزل کی تلاش میں انسان ہمہ تن گوش ہو کر قدم کو ہموار کر لیتا ھے تو پھر ڈاکٹر رتن کمار جیسے سپوت جنم لیتے ہیں ۔ اور اسی لگن کے ساتھ ڈاکٹر رتن کمار صاحب نے 2011 میں کویت کے لئے اڑان بھری اور پریکٹس کے ساتھ انھوں نے یونس آف ڈنڈی کی ڈگری کویت میں حاصل کی اور مزید اور آمتحانات دیئے اور کامیابیاں گھر کی دہلیز پر منتظر رہتی ہیں اور ایجوکیشن کا معیار بہت بلند و بالا اور خدمت انسانیت کا علم بلند کیا اخلاق کے سنہری اصولوں کا اگر مطالعہ کیا جائے اور پھر اس پر عمل بھی کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ھے کہ اخلاق و کردار کی اصلاح کا آغاز آدمی کے احساس ذمہ داری سے ہوتا ھے انسانیت کی شخصیت نکھر جاتی ھے قول و فعل اخلاق کردار میں بہتری ہو جاتی ھے یہ میں ڈاکٹر رتن کمار صاحب کے متعلق مطالعہ کرنے کے بعد کے احوال بیان کر رہا ہوں ۔

محنت میں عظمت ھے محنت کا لفظ جو چار حروف سے مل کر بنتا ھے اپنے اندر بہت بڑا مفہوم لئے ہوئے ھے یہ وہ لفظ ھے جو قوموں کی تاریخ بدل دیتا ھے اس سے جی چرانے والی قومیں نہ صرف اپنی منزل سے دور ہو جاتی ہیں بلکہ وہ ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جاتی ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ محنت سے جی چرانے والی قومیں دنیا کے نقشے سے ہی مٹ جاتی ہیں یہی وجہ ھے اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو ڈاکٹر رتن کمار کا انگ انگ محنت اور لگن میں ہم قدم ھے اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب ابھی بہت کچھ بلکہ ان اندھیروں کو بھی روشن کرنا چاہتے ہیں جہاں مایوسی براجمان ھے اخلاق کی جو مالا انھوں نے پہنی ھے اس سے بڑے بڑے پلر بھی نیست و نابود ہو جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب خوبصورت آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں اور میٹھی زبان سے دوسروں کی کڑواہٹ ختم کر دیتے ہیں یہ ھے تربیت جو والدین نے اپنے لخت جگر کو گفٹ کر دی ھے اور ماں باپ کی آنکھوں کا چشم و چراغ دوسرے کے دکھوں کو اپنی جھولی میں سمیٹ کر انسانیت کے چبوترے پر بیٹھ کر بے رحم وباء کوچینلج کر رہا ھے ڈاکٹر صاحبان کا پیشہ ہی ایسا ھے دوسروں کو زندگی دینا اپنی زندگی کو داو پر لگانا یہی ان کا مشن ھے ۔
ہماری دعا ھے کہ ڈاکٹر رتن کمار صاحب اسی جذبے کے تحت کام کریں ۔ مستقبل ان کا بہت روشن نظر آ رہا ھے اور اللہ تعالی کی ذات و برکات ان کو اور ان کے اہل خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔

وقت ملے تو کبھی قدم رکھنا میرے دل کے آنگن میں
حیران ہو جاو گے میرے دل میں اپنا مقام دیکھ کر

( نوٹ )
یہ تعارفی خاکہ میری ذاتی رائے پر مبنی ھے اس میں کسی سے مماثلت محض اتفاق ہو گا

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں