ہیلتھ انسپکٹرز اپنے حقوق کے لیے میدان میں آ گٸے،

وزارت صحت میں کام کرنے والے تقریبا 300 ہیلتھ انسپکٹرز نے وزراء کی کونسل اور وزارتِ صحت کو شکایات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل پریکٹس اور اس سے منسلک پیشوں سے متعلق قانون نمبر 70/2020 ہیلتھ انسپکٹرز کی سپیشلاٸزیشن کو نظرانداز کرتا ہے۔ روزنامنہ الجریدہ کی رپورٹ کے مطابق کہا گیا کہ ہیلتھ انسپکٹرز اسے تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے وزارت صحت میں کام کرنے والے ہیلتھ انسپکٹرز کے خلاف اس طرح کی ناانصافی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہیلتھ انسپکٹرز کئی اداروں سے یونیورسٹی کی ڈگری اور اعلی ڈگری حاصل کرتے ہیں اور انکو کو ان کے حقوق فراہم کیے جانے چاہیں۔

وزرا کی کونسل کو جمع کرائی جانے والی شکایت کی میں ہیلتھ انسپکٹروں نے وضاحت کی کہ نئے قانون نے ہیلتھ انسپکٹرز کی سپیشلاٸزیشن کو نظرانداز کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے صحت کے مراکز، ہسپتالوں اور قرنطینیہ سنٹرز میں کرونا وائرس کا مقابلہ کر کے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔

انہوں نے بعض کرونا کیسز کی وبائی امور کی تحقیقات بھی کیں۔ ہواٸی اور زمینی رستے لوٹنے والے شہریوں کو نہ صرف موصول کیا بلکہ قرنطینیہ سنٹرز اور ان کے گھروں میں متاثرہ افراد کی نگہداشت بھی کی۔

اب تک اس وبائی مرض کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں سنگین خطرات لاحق تھے، ان میں سے بہت سے افراد کو یہ مرض لاحق ہوا، کچھ کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جبکہ بعض افراد یہ انفیکشن اپنے اہل خانہ اور بچوں میں منتقل کرنے کا سبب بنے۔

انھوں نے کہا، کہ “تمام تر کوششوں اور تھکن کے بعد، ہماری سپیشلاٸزیشن کو کس طرح قانون میں نظرانداز کیا گیا۔

انسپکٹرز نے تصدیق کی کہ انہوں نے دو ماہ قبل قومی اسمبلی کی پٹیشن کمیٹی کو شکایت کا خط پیش کیا تھا کہ صحت کے معائنے کے انتظام، افعال ، نگران اور عدالتی کنٹرول کے عہدوں کے لیے بیچلر ڈگری یا اس سے اوپر کا جاب لیول رکھا جاٸے۔

انسپیکٹرز نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے ستمبر میں وزیر صحت کو شکایت کا ایک اور خط بھی پیش کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے ”جاب لیول شیڈول“ پر اپنے حق کا دعوی کیا تھا کہ وہ 2003 سے کام کر رہے ہیں لیکن بغیر کسی ترقی کے۔ انسپکٹرز کا کہنا تھا کہ موجودہ شیڈول دیگر بیچلر ڈگری رکھنے والے ہیلتھ انسپکٹرز کے لئے مناسب نہیں ہے۔

بحوالہ : عرب ٹاٸمز کویت

اپنا تبصرہ بھیجیں