کویتی سائنسدان نے حالیہ دنوں میں جراثیم کٌش دستانے بنا ڈالے۔

یہ جراثیم کٌش دستانے کویتی ڈاکٹر مشاری المطيري نے بناۓ ہیں جو مارکیٹ میں بہت جلد دستیاب ہوں گے۔

المطيري نے ایک عربی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ دستانے کرونا کی وبا کے دوران ایجاد کیے ہیں اور اس نے اپنی ایجاد کا پیٹنٹ لیا ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ دستانے دوسرے دستانوں کی طرح ہی بناۓ گئے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں تین پرتیں ہیں، ایک بیرونی پرت ہے جو چیزوں کو براہ راست چھوتی ہے۔ اور ایک درمیانی پرت جو کسی بیرونی شے سے رابطے میں آنے پر جراثيم کٌش مواد خارج کرتی ہے، اور اندرونی پرت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ انسانوں کو وائرس اور دوسرے انفیکشنز کی منتقلی سے بچائے گا، کیوں کہ اس کا جراثيم کٌش مواد چیزوں کو جراثیم سے پاک کرتا ہے۔

المطيري نے ریمارکس دیئے کہ حفاظتی دستانے تیار ہورہے ہیں جبکہ پیٹنٹ کو مینوفیکچرنگ کی منظوری کے لئے امریکہ بھیجا گیا ہے۔

بحوالہ : ٹائمز کویت

اپنا تبصرہ بھیجیں