عالمی فورم کا کرونا دیکسین کی قیمیت اور اس کی فراہمی پر اظہار خیال،

دنیا بھر سے سائنسدان، ویکسین ساز، ہیومینیٹیریئنز، اور فیصلہ ساز اکٹھے ہوں گے تاکہ کرونا ویکسین کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے، اور ویکسین کی عالمی تقسیم اور قیمتوں کا تعین کے لئے مناسب منصوبے تیار کیے جاسکیں۔

ریاض میں کنگ عبد اللہ انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام ”کوویڈ 19 ویکسین فورم“ ویکسین کے معروف سائنسدانوں، ریگولیٹرز، ڈویلپرز اور تقسیم کاروں کے لیے اہم مرکز واقعہ ہوا ہے۔

اس موقع پر ہارورڈ یونیورسٹی میڈیکل اسکول، سٹینفورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، بییلر کالج آف میڈیسن، آکسفورڈ یونیورسٹی، امپیریل کالج لندن، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، روسی اکیڈمی آف سائنسز، جازان یونیورسٹی، امام عبد الرحمن بن فیصل یونیورسٹی، کنگ عبداللہ انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ سنٹر، کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سنٹر، کنگ سعود بن عبد العزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ سائنس اور نووا ساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی سے منسلک کے ویکسین سائنسدان کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

جانسین، زہیفی بائیولوجیکل، موڈرنہ، انویو فارماسیوٹیکل اور یو-ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے نمائندے کوویڈ ویکسین تیار کرنے میں پیشرفت پر رپورٹ کریں گے۔

کوویڈ ویکسین فورم اس سال صحت دیکھ بھال پر سب سے اہم فورمز میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد COVID-19 ویکسین کی تیاری اور پیداوار پر اظہار خیال کے لیے صحت، تعلیمی، کاروباری، اور عالمی اداروں کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ عوام میں COVID-19 ویکسین کی پیداوار اور دستیابی سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹس پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

کنگ عبد اللہ انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد الاسکر نے کہا کہ یہ پروگرام منفرد اور نمایاں ہے جس سے سائنسی طبقہ، صحت کے کارکنان، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور عوام سمیت سب کو COVID-19 ویکسین کی پیشرفت سے آگاہ کیا جاسکے، اور خدشات اور امور پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔

ہم کانفرنس کے تمام ممتاز سپیکرز، آرگنائزنگ کمیٹی، تعاون کرنے والوں اور سپانسرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اسے ممکن بنایا۔

دسمبر 2019 میں چین میں وبائی بیماری کے ابھرنے کے بعد سے اس بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی عالمی کوششیں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے لوگوں نے قابل ذکر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سائنس دانوں نے اعداد وشمار اور وسائل کو مشترکہ کیا ہے تاکہ علاج اور ویکسین کی دریافت اور ترقی کو تیز کرسکیں۔

بحوالہ : گلف نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں