الیکشن مہم کی سرگرمیاں جزوی کرفیو کا باعث بن سکتی ہیں،

روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق، سینئر حکومتی ذرائع نے کہا کہ اگر
انتخابات براۓ مجلسِ اٌمہ کے لیے اگر امیدوار سیمینار، اجتماعات اور اجلاسوں میں اضافہ کرتے ہیں تو، صحت کے حکام جزوی کرفیو نافذ کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اجتماعات ناقابل قبول ہیں کیوں کہ یہ COVID-19 کیسز میں اضافے کا باعث بنے سکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کی منظوری دی جانی چاہیے۔

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ وزارت داخلہ اور وزارت صحت سمیت تمام سرکاری ایجنسیاں کسی بھی اجتماعات یا خلاف ورزی کی صورت میں جوابی کارروائی کریں گی۔ اگر لاک ڈاؤن نافذ کردیا جاتا ہے تو، اسے الیکشن سے ایک دن پہلے ہی اٹھا لیا جائے گا۔ اس کا مقصد کویت کے شہریوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت عوام کی صحت کی خاطر مناسب قدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ الیکشن کمیٹی نے حالیہ اجلاس میں اہم تجاویز پر غور کیا اور کہا کہ شہریوں کی حفاظت کے لئے بنیادی حفاظتی اقدامات کا اطلاق ہماری اولین کوشش ہے۔

زرائع نے انکشاف کیا کہ سب سے نمایاں تجویز COVID-19 سے متاثرہ افراد یا قرنطینہ سے منسلک شہریوں کے لئے ووٹنگ کا انتظام کرنا ہے۔ یا ان کی ووٹنگ کے لیے خصوصی مقامات کی سہولت مہیا کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی اہم طریقہ کار جس پر عمل کیا جائے گا وہ یہ ہے کہ نئے 48 ممبران کمیٹی شامل کیے جائیں گے تاکہ زیادہ ووٹروں والے علاقے میں بھیڑ سے بچا جا سکے۔ ممبران کمیٹیوں کی تعداد اب 542 سے بڑھ کر 590 کر دی جاۓ گی۔

انہوں نے کہا کہ استعمال ہونے والے اسکولوں کی تعداد 107 ہوگی، جن میں پانچ مرکزی اسکول شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑی کلاسوں میں نو اور چھوٹی کلاسوں میں 5 نمائندوں تک تعداد کم کر دی جاۓ گی۔

ذرائع نے کہا کہ ہالز کے اندر دو پلیٹ فارم کے بجائے ایک پلیٹ فارم کی اجازت ہوگی۔

مزید انکشاف کیا گیا کہ حالیہ انتخابی کمیٹی کے اجلاس کے دوران بوڑھوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال نہیں کیا گیا تھا، لیکن ان کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات الیکشن کے دن اٹھا لیے جاۓ گے۔

بحوالہ : کویت لوکل

اپنا تبصرہ بھیجیں