قیدی کو سابقہ ​​ملازمت سے 3 سال تک ترقی اور تنخواہ ملتی رہی!

روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق، تین سال تک، وزارت تعلیم نے قید کویتی استاد کو نوٹس کیے بنا اسکی تنخواہ جاری رکھی، اور یہاں تک کہ اسے اساتذہ (ای) سے اساتذہ (ڈی) کیٹاگری میں ترقی دی جیسے وہ اپنی ملازمت پر کام کررہا ہو۔

وزارت کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق، منسٹری آف ایجوکیشن نے کویت کے ایک اساتذہ کو تین سال کی مدت کے لئے تنخواہ ادا کی ، جو کہ 30،000 کویتی دینار بنتے ہیں، دس سال قید کے عدالتی فیصلے کے اجراء کے سبب کام سے غیر حاضر ہونے کے باوجود۔

وزارت تعلیم نے ایک ایسے ملازم کو ھی کئی ماہ تک تنخواہ کی ادائیگی جاری رکھی تھی، جس کی خدمات جسمانی تندرستی کی کمی کے باعث 10 مارچ، 2019 ختم ہوئیں تھیں۔ جو سول سروس کمیشن کے ضوابط کے منافی تھا۔

پائی جانے والی خلاف ورزیوں میں وزارت کی جانب سے گذشتہ مالی سالوں میں بغیر کسی حق کے متعدد ملازمین کو 9 ملین کویتی دینار کی فراہمی شامل ہے۔
اس سے وزارتی امور سے وابستہ محکموں میں اندرونی کنٹرول سسٹم، خاص طور پر تنخواہوں کی تقسیم سے متعلق، کی کمزوری کا پتہ چلتا ہے۔

اپریل 2018 میں قید استاد کی غیر موجودگی کے باوجود ملازمت کی سطح کو اپ گریڈ کرنے کی وجوہات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی تمام ناجائز طور پر خرچ کی گئی رقوم کی بازیابی کا تعین کرنے ہو کہا گیا۔

اس رپورٹ میں تعلیمی زون اور وزارت ہیڈ کوارٹر کے مابین خودکار رابطے کے طریقہ کار کی ناکامی پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس کے باعث 2019/2020 مالی سال کے دوران تمام غیر مستحق موجودہ اور مستعفی ملازمین کو تنخواہوں اور الاؤنسز پر تقریبا 30 لاکھ کویتی دینار کے اخراجات ہوئے۔

اس نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت سسٹم اور اسکے طریقِ کار سے غیر موثریت سے دوچار ہوئی ہے۔ خاص طور پر عملے کے امور سے وابستہ تمام محکموں جیسے کام کے مراکز، تعلیمی محکموں، انتظامی امور اور مالی امور کے مابین ہم آہنگی کے لحاظ سے۔

اسی دوران، اس رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ معائنے اور آڈٹ سے پچھلے مالی سال کے اخراجات میں اضافے کے خرچ پر 2019-2020 مالی سال کے محصولات میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت نے واپسی کی گئی آمدنی کے حساب سے 8.9 ملین کویتی دینار ریکارڈ کیا، جو تنخواہوں کی تقسیم پر سخت کنٹرول کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔


بحوالہ : کویت لوکل


اپنا تبصرہ بھیجیں