34 ممالک سے پابندی ختم کرنے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بیرون ملک پھنسے ہوئے ہزاروں غیر ملکیوں کو جلد ہی راحت مل جائے گی کیونکہ وزیر صحت ڈاکٹر باسل الصباح نے مقامی ہوائی کمپنیوں کی جانب سے فلاٸیٹس ڈاٸیرکٹ کویت لانے پر ان کی تجویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

الرائی روزنامہ کی خبر کے مطابق، کویت ایئرویز اور جزیرا ایئرویز کی طرف سے پیش کردہ جامع تجویز پر، عمل درامد کی شروع کردیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ 34 ممالک، جہاں سے کویت میں پروازوں کی اجازت نہیں تھی، سر پابندی کو ختم کیا جائے اور ڈاٸیرکٹ فلاٹس شروع کی جاٸیں۔

الراٸ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزیر صحت، ڈاکٹر باسل الصباح اور وزارت کی سینئر ٹیم نے ایوی ایشن سکٹر کے نمائندگان سے ملاقات کی، جہاں ان کی تجاویز اور اس پر عمل درآمد کے تقاضوں اور طریقہ کار کے بارے میں بڑے پیمانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

ایک عربی روزنامہ کے مطابق یہ اجلاس اس معاہدے پر اختتام پذیر ہوا کہ وزارت صحت کے مختلف متعلقہ حکام اور تکنیکی کمیٹیوں کے مابین گہری میٹنگز کا انعقاد ہوگا جس میں پابندی عاٸد ممالک پر سے پابندی ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ ساتھ ان ممالک سے آنے والی پروازوں کے موثر انداز میں نفاز کو موضوع سخن بنایا جاۓ گا۔

منصوبے کے مطابق ، 34 کالعدم ممالک کی فہرست منسوخ کردی جائے گی، اور ممالک کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، پہلا گروپ میں کم خطرے والے (A)، اور دوسرے گروپ میں اعلی خطرہ (B) والے ممالک ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ تارکین وطن جن کے پاس منظور کردہ رہائش ہے صرف وہ براہ راست پروازوں کے ذریعے واپس آسکتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ غیر ملکی جن کی موجودہ ملازمت، آمدنی کا ذریعہ اور مناسب جگہ ہے وہ گھر میں آٸیسولیٹ کر دیے جائیں گے۔

گھر میں آٸیسولیٹ ہونا تمام آنے والوں کے لئے پہلا آپشن ہے لیکن اگر آنے والے افراد کسی مناسب جگہ کی دستیابی کا ثبوت فراہم نہیں کرتے ہیں تو وہ لازمی طور پر قرنطین ہونے کے پابند ہوں گے اور قرنطینیہ کی مدت کے اختتام تک تمام اخراجات بھی برداشت کریں گے۔

ریاست مسافروں کے ٹیسٹ یا قرنطینیہ کے اخراجات برداشت نہیں کرے گی۔

معائنے کی سہولیات کے سلسلے میں ، کویت بین الاقوامی ہوائی اڈ ہ کے ٹرمینل پر آنے والے ہر مسافر سے سویب (swab) ٹیسٹ لیا جاۓ ، مسافروں سے پی سی آر جانچ کے لئے مسافروں کا ڈیٹا ریکارڈ کیا جاۓ گا اور سویب کے نمونے جمع کیے جاٸیں گے۔
اس طرح ، T1 ،T4 اور T5 میں، مسافروں کے لئے تین معائنہ کے مراکز موجود ہوں گے۔

آپریشن ڈیپارٹمنٹ منظور شدہ مراکز اور ایئر لائنز کے ساتھ ہم آہنگی کا ذمہ دار ہے تاکہ تمام ضروری اعداد و شمار کو حاصل کیا جا سکے۔
وزارت صحت کے ذریعہ کسی بھی منظور شدہ لیبارٹری کے ساتھ مشترکہ یا الگ معاہدہ کیا جاسکتا ہے تاکہ پی سی آر ٹیسٹ کروائے جا سکیں۔

پابندی عاٸد ممالک سے آنے والوں کے لیے ہونے والے اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:

1. کویت بین الاقوامی ہوائی اڈہ پہنچنے پر PCR سرٹیفکیٹ فراہم کریں جو منفی حیثیت کا مظاہرہ کرتا ہو۔

2. وزارتِ صحت کو ایئر لائنز سسٹم سے درکار اعداد و شمار کی آٹومیٹک فراہمی، جو مسافروں کے پہنچنے سے قبل ہوگی۔

3. پہنچنے کے بعد، آنے والوں کا معلومات کی شلوونک ایپ سے تصدیق کی جاۓ گی۔

4. گھر میں 7 روزہ قرنطینیہ ہوگا۔

5. پہنچنے کے ساتویں روز دوسرا PCR ٹیسٹ لیا جاۓ گا، وزارتِ صحت سے منظور شدہ لیبارٹری سے منفی نتاٸج آنے کی صورت میں سات روزہ قرنطینہ ختم کر دیا جاۓ گا۔

6. مثبت رپورٹ آنے کی صورت میں قرنطینہ کی مدت میں توسیع کی جائے گی اور وزارت صحت کے طریقہ کار کا اطلاق ہوگا۔

7. ایئرلائن 7 روز کے بعد ہونے والے دوسرے “پی سی آر” ٹیسٹ کی لاگت برداشت کرے گی، جو مسافر سے پیشگی جمع کر لی جائے گی۔

دوسری (B) کیٹاگری سے والوں کے لیے لاحہ عمل:

1. کویت بین الاقوامی ہوائی اڈہ پہنچنے پر PCR سرٹیفکیٹ فراہم کریں جو منفی حیثیت کا مظاہرہ کرتا ہو۔

2. وزارتِ صحت کو ایئر لائنز سسٹم سے درکار اعداد و شمار کی آٹومیٹک فراہمی، جو مسافروں کے پہنچنے سے قبل ہوگی۔

3. پہنچنے کے بعد، آنے والوں کا معلومات کی شلوونک ایپ سے تصدیق کی جاۓ گی۔

4. اٸیرپورٹ پہنچنے پر سب مسافروں کا دوسرا PCR ٹیسٹ لیا جاۓ گا۔

5. گھر میں 7 روزہ قرنطینیہ ہوگا۔

6. پہنچنے کے ساتویں روز تیسرا PCR ٹیسٹ لیا جاۓ گا، وزارتِ صحت سے منظور شدہ لیبارٹری سے منفی نتاٸج آنے کی صورت میں سات روزہ قرنطینہ ختم کر دیا جاۓ گا۔

7. ایئرلائن دوسرے اور تیسرے “پی سی آر” ٹیسٹ کی لاگت برداشت کرے گی، جو مسافر سے پیشگی جمع کر لیے جاٸیں گے۔

تجارتی پروازوں کی بحالی کے لئے سپریم کمیٹی کے فیصلے پر، سعد العتیبی نے کہا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن اُن اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے جن سے آنے والے مسافروں پر بوجھ کم پڑے اور کویت میں ہوائی نقل و حمل کو بھی تقویت مل ملے، بشرطیکہ حفاظتی ضروریات اور صحت کے طریقہ کار کی تعمیل ہو۔

العتیبی نے الرائی کو ایک بیان میں بتایا کہ اس سے قبل سپریم کمیٹی نے 12 اگست کو صحت کے حکام کو ایک سفارش پیش کی تھی کہ کالعدم ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کے لئے کویت کے ہوٹلوں میں 14 روزہ ادارتی قرنطینیہ سنٹر بنایا جاۓ جس سے کویت میں صحت کے نظام کو برقرار رکھنے اور وزارت صحت کی ہدایات پر عمل پیرا ہونے میں مدد ملے گی۔

بحوالہ : ٹاٸمز کویت

اپنا تبصرہ بھیجیں