34 ممالک پر پابندی ختم کرنے کی تجویز، 3 بار PCR ٹیسٹ لیا جاۓ گا۔

ایوی ایشن سیکٹر، ہوٹلوں، نقل و حمل، ریستوراں اور ایس ایم ای میں زندگی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے، آج صبح بورڈ کے ممبران نے کویت ایئر ویز اور جزیرا ایئر ویز کے چیئرمین کے ساتھ مل کر وزیر صحت ڈاکٹر ڈاکٹر باسل الصباح سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دونوں کمپنیوں کی پیش کردہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ہوائی ٹریفک دوبارہ شروع کرنے اور مسافروں کو ان کے 14 دن کا قرنطینیہ پیریڈ کی بجاۓ براہ راست وصول کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجویز میں ایسی تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے جن میں پی سی آر ٹیسٹ اور ایک ہفتہ کا قرنطینیہ پیریڈ شامل ہے۔

منصوبہ کے مطابق قرنطینیہ میں 14 دن صرف کیے بغیر 34 کالعدم ممالک کے مسافروں کو براہ راست قبول کیا جائے گا، جسے دو قسموں ”کم خطرے“ اور ”زیادہ خطرے“ میں درجہ بند کیا جائے گا۔ ہر قسم کے ساتھ نمٹنے کے لیے خصوصی لاحٸہ عمل اپنایا جاۓ گا۔

اعلی خطرہ والے ممالک کے مسافروں کے لیے 3 بار سی آر ٹیسٹ لیا جاۓ گا۔ پہلا روانگی والے ملک میں، دوسرا کویت ہوائی اڈے پر، اور آخری مسافروں کے قرنطینیہ مدت (گھر یا ادارہ) مکمل کرنے کے بعد۔
کم خطرہ والے ممالک کی جانچ صرف دو بار کی جائے گی ، پہلے روانگی والے ملک میں اور دوسرا ایئرپورٹ پہنچنے پر۔

میڈیکل رپورٹ کے وساطت سے 5 دن کے اندر مریض پر علامات ظاہر ہونے کا اشارہ مل جاتا ہے اس لٸے دو ہفتوں کے قرنطینیہ کی ضرورت نہیں۔ اس لیے قرنطینیہ کی مدت ایک ہفتے تک رکھنے کی تجویز دی گٸی ہے۔


قرنطینیہ کا طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے اب بھی صحت کے حکام کے ساتھ اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ریاست مسافروں سے متعلق کوئی اخراجات برداشت نہیں کرے گی چاہے وہ پی سی آر ٹیسٹ ہو یا قرنطین میں رہاٸش ہو یا کوئی مالی اخراجات۔
لیبارٹریز کا لاحہ عمل
تسلیم شدہ لیبارٹریز روزانہ 5000 سے زیادہ ٹیسٹ لے سکتی ہیں۔ پہلے مرحلے میں 5 ہزار مسافر روانہ ہوں گے جبکہ 5 ہزار مسافر ہی آمد کریں گے۔

اگر اس منصوبے کو صحت کے ضوابط اور ضروریات کے مطابق وزارت صحت نے منظور کرلیا ہے تو اس کا اطلاق ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کرے گا۔

قرنطینہ کا عرصہ
کویت ایئرویز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ، کیپٹن علی الدوخان نے بتایا کہ کویت ایئرویز اور جزیرا ایئر ویز نے اپنے لئے مقرر کردہ عمارت میں اپنی پروازوں پر آنے والوں کے لئے مطلوبہ چیک کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس طریقہ کار کو عملی جامہ پہنانے سے مسافروں کو عبوری ملکوں میں قرنطینیہ کا عرصہ گزارنے ١کی ضرورت کے بغیر براہ راست کویت پہنچنے کا موقع ملے گا کیونکہ قرنطینیہ کا دورانیہ ختم ہونے سے پہلے ہی ضروری جانچ کویت میں ہو جاۓ گی۔

بحوالہ : کویت لوکل

اپنا تبصرہ بھیجیں