دبئی: فرار کے بدلے پاکستانی کی پولیس افسر کو مرسڈیز، تنخواہ کی پیشکش

زیر حراست پاکستانی ملزم نے دبئی میں ایک پولیس افسر کو فرار میں مدد دینے کے لیے اور بھی قیمتی اشیا کی پیشکش کی۔

دبئی میں مقیم پاکستانی شہری نے حراست سے فرار کروانے کے بدلے میں ایک پولیس افسر کو 50 ہزار درہم، مرسڈیز کار، 20 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ، قیمتی گھڑی اور موبائل فون بطور رشوت دینے کی پیش کش کی۔

اخبار خلیج ٹائمزکے مطابق دبئی کی ایک ماتحت عدالت کو بتایا گیا کہ 40 سالہ پاکستانی ملزم نے پولیس اہلکار کی مدد حاصل کرنےکی کوشش کی۔ ملزم چاہتا تھا کہ مذکورہ پولیس افسر اس کا کسی ایسے شخص سے رابطہ کروا دے جو اسے فرار کروا سکے۔

ملزم کو ایک اور جرم کی شکایت پر حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ 18 اور 19 جون کو پیش آیا جس کا مقدمہ بر دبئی تھانے میں درج کیا گیا۔ دو دوسرے پاکستانیوں پر، جن کی عمریں 40 سال ہیں، ملزم کی مدد کا الزام ہے۔ تینوں افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔

معاملے کی تفتیش کے دوران پولیس سرجنٹ نے کہا: ‘میں اس وقت حیران ہو گیا جب مرکزی ملزم نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور مجھے رشوت کی پیشکش کی۔’

پولیس افسر نے بتایا کہ کس طرح مرکزی ملزم نے ان سے کہا کہ وہ اسے کسی شخص کو فون کرنے دے تا کہ وہ فرار ہو سکے۔ پولیس افسر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انہوں نے ملزم کو اگلے دن انتظار کرنے کے لیے کہا تاکہ وہ اس پیشکش پر’غور’ کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا: ‘میں نے شعبے کے سربراہ اور دوسرے پولیس افسر کو چوکس کر دیا۔ سینیئر افسر نے مجھ سے کہا کہ میں ملزم کو یقین دلاؤں کہ مجھے پیشکش قبول ہے تاکہ ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑا جا سکے۔’

بعد میں مرکزی ملزم کے دو ساتھیوں کو تھانے کی پارکنگ سے عین اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب رشوت کے طور پر 15 ہزار درہم پولیس افسر کو دیے گئے، باقی رقم بعد میں دی جانی تھی۔

پولیس کی پوچھ گچھ میں ملزم نے رشوت کی پیشکش کا الزام قبول کر لیا، جب کہ 15 ہزار درہم ضبط کر لیے گئے ہیں۔ مقدمے کا فیصلہ 25 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

بحوالہ : انڈیپنڈنٹ اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں