طاہر نواز تنولی

نامور شخصیات میں اہم شخصیت

وقت سب کو ملتا ھے زندگی بدلنے کے لئے
لیکن زندگی نہیں ملتی وقت بدلنے کے لئے

مانسہرہ کی جنت نما وادی سے ایک خوبصورت نوجوان سے ملاقات جو کویت کی سر زمین سےہلال رزق کی تلاش میں پہنچے اور ایک اعلی منصب پر فائز ہیں
والدین بہن بھائیوں سے جدائی کا اثر اس قدر گہرا زخم ہوتا ھے کہ وطن کی یاد سراپا احتجاج بن جاتی ھے گریجویشن کے بعد انھوں نے بہت کچھ سوچا تھا کہ تعلیم و تدریس میں اور بہت کچھ حاصل کروں گا مگر شائد اللہ تعالی کو یہی منظور تھا ہماری نظر میں طاہر نواز صاحب نے 15 سال کے قلیل عرصے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں شائد ہی کسی خوش نصیب کو میسر ہوں طاہر نواز صاحب کا بڑا پن یہ ھے کہ عاجزی اور انکساری میں انھوں نے اپنے نام کو منور کیا ھے صلہ رحمی ان کا اوڑھنا بچھونا ھے دوست احباب سے جب ملتے ہیں دل کی صدا بلند کرتے ہیں اور پھر گلاب کے پھول کی خوشبو کی طرح ماحول کو معطر کر دیتے ہیں طاہر صاحب نہایت فکر انگیز ، حوصلہ افزا اور قابل قدر ہیں ۔

علم کی اشاعت ، فکر کی وسعت اور دانش کی حفاظت ان کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ھے یہ اس قدر ہمدرد انسان ہیں کہ ان جیسے فرشتہ نما شاہکار کی معاشرے کو ضرورت ھے ۔ ان کا زندگی کو احسن طریقے سے بسر کرنا ہر دور میں اعلی ترین ہنر رہا ھے لیکن آج اس نفس و نفسی کے دور میں ان جیسے انسانوں کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ھے بندہ مومن کی سب سے بڑی پہچان بھی یہی ھے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے خلق خدا محفوظ رہے ۔طاہر صاحب کی ان گنت خوبیاں ہیں اور صفات کے ساتھ ساتھ نوادرات کا بھی ڈھیر ھے کیونکہ ان کے سوچنے کا انداز ھے ہی ایسا جو انسان کو پستی سے اٹھا کر بلندی پر لے جاتا ھے اس لئے طاہر نواز جیسے لوگ حقیقی معنوں میں نہ صرف اہل نظر بلکہ صاحب دل بھی ہوتے ہیں ان کے اوصاف بیان کرنا چاہوں پڑھنا بھی مشکل لکھنا بھی مشکل اور سمجھنا بھی مشکل ۔ جیسا کہ چند ایک خصوصیات سپرد قلم ہیں
نمبر 1 : ہمیشہ سچ بولیں اور جھوٹی گواہی سے پرھیز کریں
نمبر 2 : طاہر صاحب کہتے ہیں سب انسان برابر ہیں اگرچہ ان کے کام مختلف ہیں اس لئے ہر انسان کی عزت کریں اس کے ساتھ خوش اخلاقی ، مسکراہٹ ہمدردی اور خلوص سے پیش آئیں نیکی کرنے کے موقع کی تلاش میں رہیں ہر انسان سے اس کی سوچ اور صلاحیت کے مطابق بات کریں دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔
نمبر 3 : دوسروں کی بھلائی کے کام اگر آپ کے اختیار میں ہیں تو جوش اسلوبی سے سر انجام دیں اس کے بدلے میں نہ شکریئے کی توقع رکھیں نہ احسان جتلائیں
نمبر 4 : حق کی راہ میں مشکلات سے کبھی نہ گھبرائیں ہمیشہ حق کی بات کہیں

دلوں میں فرق آ جائے تو اتنا یاد رکھنا تم
دلیلیں منتیں اور فلسفے بیکار ہو جاتے ہیں

جو دکھ دے اسے چھوڑ دو
جسے چھوڑ دو اسے دکھ نہ دو

نمبر 5 : ہمیشہ دوسروں کے لئے وہی پسند کریں جو خود آپ اپنے لئے چاہتے ہیں کبھی کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں برے لوگوں کی صحبت سے بچیں فضول اور بےجا بحث مباحثہ میں نہ پڑیں ۔ اور بہت کچھ مگر بات لمبی ہو جائے گی ۔
ہماری دعائیں نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں اللہ تعالی ان کو خوش اور سلامت رکھے ۔ آمین ثمہ آمین

چوھدری غلام سرور
سرپرست اعلی کویت انفو پوائنٹ
چیف ایڈیٹر پروان میگزین لاہور

اپنا تبصرہ بھیجیں