موت سچ اور برحق

کبھی کبھی میں یکسانیت سے باغی ہو جاتا ہوں جب مجھے بہت دنوں تک سوچنے کی مہلت نہیں ملتی تو میں اپنے آپ سے نفرت کرنے لگتا ہوں ۔ تب میں ایسی جگہوں کی طرف رخ کرتا ہوں جہاں ہم اکثر مجبوری میں ہی جاتے ہیں ان میں سے ایک جگہ انسانوں کی آخری آرام گاہ قبرستان ھے یہاں آپ خود کو دو جہانوں کے درمیان پاتے ہیں اور زندگی کے تمام پہلووں پر سوچتے ہیں ہمارے ایک طرف زندگی سرپٹ دوڑ رہی ہوتی ھے اور دوسری طرف زندگی ایک اٹل حقیقت خاک کا لحاف اوڑھے ہمیشہ کے لئے اس کے اوپر پڑی رہتی ھے یہاں ہم ایسے بہت سے پہلووں پر توجہ کر سکتے ہیں جن کے بارے میں عام طور پر غور نہیں کیا جا سکتا یہاں میں قبروں کے کتبے پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ انسانوں کے بے دم جسموں کے ساتھ کتنی خواہشیں دفن ہو جاتی ہیں کتنی ہی تمنائیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دی گئی ہیں بہت سارے سوالات بہت سارے احساسات وجود میں آنے لگتے ہیں سب سے پہلے میں ایک شہید کی قبر پر آتا ہوں اور بھیک مانگتا ہوں کہ تھوڑی سی زندگی اور زندگی کا احساس مجھے بخش دو اے میٹھی نیند سونے والے پیارے اٹھو ہماری مدد کرو منہوس گدھ ہم سب مرداروں کو نوچ رہا ھے پھر میں ایک ولی اللہ درویش کی قبر پر آتا ہوں اور کہتا ہوں کہ آپ جب بھی پہلی بار ہماری بستی میں آئے تھے تو ساری بستی میں چراغاں ہوا تھا ہر طرف نور ہی نور تھا آج میں اپنے گھر کے اندھیروں سے بھاگ کر یہاں آیا ہوں بستی واپس چلو بابا ساری بستی میں کوئی کسی کو نہیں پہچانتا سب ایک دوسرے کے دشمن ہیں بابا آپ کا مزار تو چراغوں سے اج بھی جگمگا رہا ھے مگر میری بستی میں اتنا اندھیرا کیوں ھے ۔

پھر میں چند دانشوروں کی قبروں پر جاتا ہوں کہ اے خاک میں مل جانے والو ۔بتاو زندگی کا کوئی سراغ ملا کہ نہیں دامن جھاڑ کر کہاں آن بیٹھے ہو وہ لمبی لمبی باتیں کہاں گئیں ہم تمھیں یاد کرتے ہیں سچ پوچھو تو تم آج کتابوں سے چمٹے بیٹھے ہو تو پھر میں چند سرمایہ داروں وڈیروں ظالم جاگیرداروں کی قبروں پر جاتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ بتاو کہاں ھے تمھارا سرمایہ اور اگر آج تمھاری قبر سونے سے بھی بھر دی جائے تو خدا کی قسم تمھیں راحت نہیں ملے گی دو گز زمین میں سمانے والو اپنی باقیات کو بتاو کہ تمھاری تا حد نظر پھیلی ہوئی زمین آج تمھارے کسی کام کی نہیں اپنی جاتی کا خون چوس کر اب تم نے کون سی راحت پائی ھے بہت سی قبروں سے گزر کر میں کچھ حکمرانوں کی قبروں پر جاتا ہوں ایک لمبی سانس لیتا ہوں افسوس بھرے لہجے میں کہتا ہوں ہائے ستم ظریفی تمھیں بھی موت نے آن دبوچا تم تو ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے نہ تھے ۔جب تک تم میرے سامنے تھے مجھے کبھی گمان تک نہیں ہوا کہ تم ہم سے جدا ہو جاو گے تمھارے پلان اتنے طویل تھے یوں لگتا تھا کہ شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو جائیں گے مگر تم ٹہلتے پھرو گے پھر حیرانی کے عالم میں یہاں سے بھی گزر جاتا ہوں سب سے آخر میں مزدوروں کی قبروں پر جاتا ہوں ۔ جن میں ہاری کلرک فقیر مسکین مزدور اور بے بس ہیں میں کہتا ہوں کہ اب یہاں آن مرے ہو تو پہلے کون سا جی رہے تھے تم میں سے خدا جانے جیتے تھے اور کتنے روز مرتے تھے اور کتنے روز مرنے کی دعائیں کرتے تھے اور میں بڑی بے حسی کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ ہاں تمھیں مر ہی جانا چاہیئے تھا تمھیں کوئی جینے کا حق نہیں تھا کیا کاروباری زندگی تمھارے بغیر چل نہیں سکتا یہ ھم جانتے بھی کب تھے تمھیں یہ احساس کب تھا کہ تم بھی اپنے نقشوں جیسے انسان ہو تم ان سے کس قدر زیادہ طاقتور ہو تم زمین کو چیر پھاڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے پہاڑوں کو چیر پھاڑ کر راستہ بنانے کی تم میں قوت تھی مگر پھر بھی تمھیں احساس نہیں تھا اپنے جیسے انسانوں کے غلام ہو یقینا تمھیں مر ہی جانا چاہیئے تھا بلکہ تمھیں تو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے تھا کیا تم اس لئے پیدا ہوئے تھے کہ ظالموں کے سامنے سر جھکا کر ان کے ظلم کو اور تقویت دو تم نے ساری زندگی سسک کر گزاری اور مٹھی بھر ظالموں کو نہ روک پائے کس چیز سے تم ڈرتے تھے آج مر کے تم یہاں پڑے ہو یوں لگتا ھے کہ اب تم آرام سے ہو اور زندگی میں تم آرام نہ پا سکے شام رات میں تبدیل ہو جاتی ھے اور شہر خاموشاں سے ہنگاموں کی طرف لوٹ آتا ہوں اس رواں دواں زندگی میں کئی لوگوں کو جیتے مرتے دیکھتا ہوں میرے ہر طرف نہ جانے کتنی زندہ لاشیں ہیں یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ سچ کیا ھے لیکن اب سمجھ آئی ھے کہ سچ وہ ھے جو میں دیکھ کر آیا ہوں ۔

دعا کا منتظر

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں