کویت میں بھائی نے حاملہ بہن کو گولیاں مار کر قتل کر ڈالا

پہلے حملے میں بہن بچ گئی تو سنگدل بھائی نے ہسپتال کے اسٹاف کا حلیہ اپنا آئی سی یو میں پڑی زخمی بہن کو قتل کر ڈالا، ہولناک واردات کی ویڈیو وائرل

کویت میں ایک سنگدل بھائی نے دو بار اپنی حاملہ بہن پر حملہ کر کے اس کی جان لے لی۔ گلف نیوز کے مطابق کویتی خاتون فاطمہ العجمی نے اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی اور کئی سالوں سے اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہی تھی۔ شروع میں اس کے گھر والے ناراض تھے مگر بعد میں والدین اور دوسرے بھائی راضی ہو گئے تھے، البتہ فاطمہ کا چھوٹا بھائی اس پسند کی شادی پر شدید ناراض تھا کیونکہ اس کا بہنوئی ان کے قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
نوجوان اپنی بہن کے گھر گیا اور اس کے ڈیڑھ سالہ بچے کے سامنے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا اور جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔ فاطمہ کا خاوند فائرنگ کی آواز سُن کر کمرے میں گیا تو وہاں اس کی بیوی خون میں لت پت پڑی تھی، جسے فوری طور پر مبارک الکبیر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے مفرور نوجوان کی تلاش شروع کر دی ۔ تاہم جب مفرور ملزم کو پتا چلا کہ اس کی بہن ہلاک نہیں ہوئی بلکہ الکبیر ہسپتال میں شدید زخمی ہے تو یہ سنگدل بھائی دوبارہ ہسپتال گیا اور سٹاف کا لباس پہن کر آئی سی یو میں گھس کر بہن کو گولیاں مار کر ابدی نیند سُلا دیا۔

پولیس کے مطابق انہیں اطلاع ملی کہ ایک نوجوان الکبیر ہسپتال کے عقبی دروازے سے داخل ہو کر آئی سی یو وارڈ میں گیا اور وہاں شدید زخمی حالت میں پڑی بہن کو دوبارہ گولیاں مار کر فرار ہو گیا ۔

ملزم کی تلاش جاری ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد عوام شدید مشتعل ہے۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ اگر ہسپتال بھی مریضوں اور زخمیوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو باقی جگہوں کا کیا حال ہو گا۔

ظالم بھائی کے ہاتھوں مرنے والی فاطمہ کے والد نے بتایا کہ اس کی بیٹی نے دو سال پہلے کسی اور قبیلے کے فرد سے شادی کر لی تھی جس پر شروع میں ہماری کچھ ناراضگی تھی جو وقت کے ساتھ ختم ہو گئے۔ تاہم میرا ایک بیٹا اس فیصلے کو قبول نہیں کر پایا تھا۔ اس نے کئی بار فاطمہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ جسے اس نے بالآخر پورا کر دیا۔ سوشل میڈیا پرصارفین نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کو سخت سزا سُنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ آئی سی یو میں کسی غیرمتعلقہ شخص کا پہنچ جانا خطرناک امر ہے حالانکہ وہاں ڈاکٹروں اور نرسوں کے سوا کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہوتی- ایک مسلح شخص کا وہاں گھس کر واردات کرنا اور فرار ہوجانا سنگین معاملہ ہے- پولیس نے خاتون کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہے۔

بحوالہ:اُردو پوائنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں