الفاظ کا وزن

پہلے سوچئے پھر بولئے

خواتین و حضرات کویت کی میری پچاس سالہ تاریخ کا یہ روشن پہلو ھے

“الفاظ” کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ھے ۔ ہر “لفظ” اپنی ذمہ داری نبھاتا ھے

کچھ الفاظ “حکومت” کرتے ہیں۔ ۔ ۔ کچھ “غلامی”

غلام الفاظ بلاوجہ کی چاپلوسی غلامی کی آخری حد تک گر جانا یہ بیجان الفاظ ہوتے ہیں

کچھ لفظ “حفاظت” کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور کچھ ” تلوار سے بھی ذیادہ تیز دھار

ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ھے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیاتو سمجھ آئی مجھے کچھ دوستوں کے الفاظ عرصہ بیت جانے کے بعد بھی آج بھی یاد ہیں معاف کر دینے کے بعد بھی معاف نہیں ہوتے ۔ ان کو دیکھ کر سارا دکھ تروتازہ ہو جاتا ھے لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، لفظ تو زہریلے دانت بھی رکھتےہیں۔ ۔ ۔ جب کاٹتے ہیں تو اندر تک گہرا زخم کر
دیتے ہیں جو الفاظ کی یادوں میں شامل رہتا ھے زہریلے لفظ بولنے والے کا لہجہ نہیں بھولتا تروتازہ رہتا ھے
یہ وہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو “گریبان چاک کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔

یہ پاؤں رکھتے ہیں،جو”ٹھوکر” لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔

اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں “لہجہ” کا اسلحہ تھما دیا جائے،تو یہ وجود کو “چھلنی” کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔

اپنے لفظوں کے بارے میں “محتاط” ہو جائیںانہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ یہ کسی کے “وجود’ کو سمیٹیں گےیا کرچی کرچی کر کے بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔

الفاظ کی ادائیگی میں زبان کا بڑا اہم رول ھے زبان میں ہڈی نہیں ہوتی مگر ہڈیاں تڑوا ضرور دیتی ھےکیونکہ یہ الفاظ تمہاری “ادائیگی” کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔اور “بادشاہ” اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ھے اور اپنے سے “بڑے بادشاہ” کو جواب دہ بھی….

ہر خاص و عام کے لئے ایک تحفہ

اچھے لوگوں کے لئے خوبصورت پیغام

اگر آپ میٹھے بول بولیں گے تو دوسروں کا بیڑا غرق کر دیں گے اور اگر کڑوا بول بولیں گے تو اپنا آپ گنوا دیں گے

( پروان میگزین )
غلام سرور چوھدری

اپنا تبصرہ بھیجیں