آستین کے سانپ

لوگ منتظر ہی رہے ہمارے زوال کے
مگر ہمیں بھی رب نے حوصلے دیئے کمال کے

اصولوں پہ آنچ اگر آئے تو ٹکرانا ضروری ھے
زندوں میں اگر رہتے ہو تو زندہ نظر آنا ضروری ھے

زبان کڑوی سہی دل صاف رکھتا ہوں
کون کہاں بدلا سارا حساب رکھتا ہوں

میری بربادی میں کسی غیر کا ہاتھ ہرگز نہیں تھا میں بھرم
میں سازش دوستی کی بھینٹ چڑھا
بہت دنوں سے سوچ رہا تھا چند باتیں لکھنے کے بارے میں مگر کچھ مصروفیات نے نہ لکھنے دیا تو کچھ دنیا کی ان بے وقت رنگینیوں نے بھی ۔۔۔۔۔مگر اب بوجھ کچھ زیادہ ہی محسوس ہورہا تھا اس لیے کچھ کہنے کے لیے لفظوں کو تلاش کررہا ہوں میں آج تک نہیں سمجھ سکا دوستی ہوتی کیا ھے ؟کون دوست ہے کون دوست کے روپ میں چھپا ہوا
دشمن
ھے دوست ہیں بھی کہ نہیں ؟
زندگی کے اس طویل سفر میں بہت سے لوگ دوست بن کر زندگی میں داخل ہوئے کچھ نے تو بے وفائی کی انتہا کی تو کچھ ایسے بھی نکلے جو آستیں کے سانپ ثابت ہوئے مگر زندگی رکی نہیں چلتی رہی چلتی جارہی ھے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں اسی شہر میں اسی دنیا میں جن کا کام پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنا برائیاں کرنا اور غیبت میں ہر حد پار کرجانا ھے میں ان کو بھی جانتا ہوں کچھ ایسے لوگ ہیں جو بظاہر دوستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر ان کی آستینوں میں مہلک زہر میں بیگھے ہوئے خنجر چھپے ہوئے ہیں یہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کو میں سمجھتا تھا کہ یہ میرا سب کچھ ہیں
مگر
سوال زہر کا نہیں تھا وہ تو میں پی گیا
تعجب لوگوں کو اس وقت ہوا جب میں جی گیا

حیرت انگیز طور پر ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی محفل میں موجود ہوتے ہوئے جب بے وفا منافق دوست میری تضحیک کر رہا ہوتا ھے وہ میری بے بسی اور دوستی کا حق ہنس کر اس کی تائید کا فرض ادا کررہے ہوتے ہیں ؟زندگی کے اس طویل مگر بے معنی سفر میں خوشامدی کی ایک لہر تھی لوگوں کو قرآن پاک پر حلف اٹھا کر بدلتے بھی دیکھا ان گنہگار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک لمحہ پہلے ایک شخص آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی تعریف میں زمین آسمان ایک کررہا تھا وہی شخص چند گھنٹوں بعد وہاں سے کچھ دور بیٹھ کر گالیوں سمیت نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا
میرے انتہائی محترم بزرگ اکثر یہ فرمان دہراتے ہیں کہ ’’برائی برے بندے کی وجہ سے نہیں پھیلتی بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی کی وجہ سے پھیلتی ھے ‘‘اس بات میں کوئی شک نہیں ھے بہت سے لوگوں نے دوست بن کر پیٹھ میں چھرا گھونپا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ھے اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ھے جس نے مجھے اس غلاظت سے لتھڑی ہوئی عارضی زندگی سے بے زار کردیا ھے مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون میرے خلاف کیا کررہا ھے کون کیا نہیں کررہا

نہ میں گرا نہ میری امیدوں کے مینار گرے
پر لوگ مجھے گرانے میں کئی بار گرے

لیکن ان حالات میں رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے
ایک ایک کی سمجھ آئی ھے کہ یہ سپولیئے میرے پروں میں بیٹھے تھے اور خونخوار درندے مجھے ہی نوالا اور وقت کے انتظار میں تھے جب میری آنکھ لگی انھوں نے چیر پھاڑ کے
میری ہڈیاں بھی چبا گئے
تلخ حقیقت ھے کہ زندگی بہت کم رہ گئی ہے ساری زندگی خدا سے دوری اختیار کیے رکھی اب اللہ نے زندگی بدل دی ھے اور سچی دوستی تو اللہ رب العزت کی ھے
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
جب ایک محفل میں کچھ بدنیت لوگ آپ کے خلاف بات کررہے ہوں آپ کے خلاف سازش کر رہے ہوں اور آپ کے دوست جن کا دعویٰ ہو کہ وہ آپ کے بہت ہی زیادہ گہرے دوست ہیں عزیز ہیں وہی وہاں بیٹھ کر ہنسی مذاق میں بات کو ٹالیں جواب دینے کی بجائے خوش ہوں تو پھر کیا کہنا چاہیے ایسی دوستی کو ؟فیصلہ آپ نے کرنا ھے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرِ جن و انس دوستی کے روپ میں چھپے آستین کے سانپ و منافقین حاسدین سے محفوظ رکھے آمین ثمہ آمین
عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش والے سارے خداوں سے الجھ بیٹھا ہوں

پروان میگزین
غلام سرور چوھدری

اپنا تبصرہ بھیجیں