سجاد احمد سحر

سجاد احمد سحر صاحب آج کل وزیر اعظم پاکستان کے آفس میں جوائنٹ سیکرٹری کے اھم عہدے پر فائز ہیں اور اپنی خدمات سے ملک و قوم کو فیض یاب کر رہے ہیں
اعلی خدمات کے سلسلے میں بطور سفیر پاکستان کویت میں آپ کی خدمات کو عرصہ دراز گزر جانے کے بعد بھی ماضی ، حال لگتا ھے سجاد احمد سحر پاکستانی کمیونٹی کے دلوں میں راج کرتے ہیں ، کرتے رہیں گے جس کی مثال میرے یہ چند ٹوٹے پھوٹے حروف محترم جناب عزت مآب سجاد احمد سحر صاحب پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں

ایک خوبصورت نام کے ساتھ ساتھ یہ ایک خوبصورت شخصیت بھی ہیں بہت ہی اچھے نمود و نمائش سے بالا تر خوش مزاج چہرے پر مسکراہٹ سے پھولوں کی کرنیں امڈ کر مخاطب پر کاری ضرب لگاتی ہیں میں نے ان کی شخصیت کا بغور خاص مطالعہ کیا مناسب قد کاٹھ بھرا بھرا جسم اور پر رونق چہرے پر نور سے منور چمک ھے یہاں کویت میں پاکستانی کمیونٹی میں غیر معمولی شہرت کے مالک تھے مجھے ان کی قوت اعتماد پر رشک آیا یہ سجاد احمد صاحب کا کمال ھے یہ یہاں کویت میں پاکستان ایمبیسی میں قائم مقام سفیر بھی رہ چکے ہیں آج کل پاکستان اسلام آباد میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

بہت ذمہ دار اپنے فرائض کی ادائیگی میں ذرا برابر سستی یا کاہلی کا سوال ہی ہیدا نہیں ہوتا نیک نامی ان کا اثاثہ اور نسل بعد نسل ان کا خاصہ چلا آ رہا ھے خواہ میدان اور شعبے الگ الگ ہی کیوں نہ ہوں سجاد احمد سحر صاحب آئینہ ھے افرادی اور اجتماعی طور پر چہروں کے خد و خال کے حسن اور بدنمائی کے بے لاگ اظہار کا ذریعہ ھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہمیشہ کھیلتی رہتی ھے ۔

سجاد صاحب ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے یا کچھ نہ کچھ کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں لیکن ان کی سرگرمیوں کا محور ان کی ذات نہیں ھے اپنی ذات کا بت نہ بنایا نہ پوجا کی یہ دوسروں کے لئے سوچتے اور دوسروں کے لئے سانس لیتے ہیں اپنے ملازمین اور خدمت گاروں کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتے ہیں اس طرح انھوں نے اپنے کارکنان کو رفاقت کا وہ تاثر دیا ھے جو کم لوگ دے پاتے ہیں جو میں جانتا ہوں۔

سجاد احمد سحر صاحب کا جذبہ اگر عام ہو جائےسب نہیں اگر کچھ لوگ ہی ان کی طرح سوچیں اور ان کی طرح قدم بڑھائیں تو ہمارے گلشن میں ایسی بہار آ
سکتی ھے جس کے بعد خزاں نہیں آ تی

میری سجاد احمد صاحب سے کسی پروگرام کے سلسلے میں ایک میٹنگ تھی مجھے آج بھی وہ لمحہ وہ لہجہ توکل اللہ والا یاد ھے سجاد احمد صاحب نے کہا کہ مجھے آپ کی مشکلات کا احساس ھے مگر یہ اتنی اھم نہیں ھے جتنی دکھائی دیتی ھے ذہنی رویہ سب سے اھم ہوتا ھے اس پر یقین رکھیں کہ خدا برتر نے آپ کے اندر ایک ایسی قوت چھپا رکھی ھے جو ہر مشکل کو آپ کے راستے سے ہٹا سکتی ھے
مشکلات کا آسان یا پریشان کن ہونا ہماری سوچ پر منحصر
ھے
میں نے سجاد احمد سحر صاحب کی اسی تلخ حقیقت کا سامنا کیا اور کامیاب رہا ان کا دیا ہوا سبق مجھے آج بھی یاد ھے ذرا ذرا گزرے ہوئےایام روز روشن کی طرح روشن ہیں ۔ ہم سجاد احمد سحر صاحب کی صحت اور تندرستی کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کے لئے بھی دعا خیر کرتے ہیں
آمین ثمہ آمین

غلام سرور چوھدری
( پروان میگزین)

اپنا تبصرہ بھیجیں