افضل نعیم مغل مرحوم

انا للہ و انا علیہ راجعون

مرقد پہ تیری رحمت حق کا نزول ہو
حامی تیرا خدا اور خدا کا رسول ہو

بروز بدھ 19 اگست 2020

کو اس دنیا سے کوچ کر گئے دل نے آگے اور ساتھ نبھانے کا وعدہ پورا نہ کیا جان سے بے جان ہو گئے چکوال پاکستان کی مٹی کا بلاوا آ گیا اور ہمارے پیارے بہترین مخلص دوست کو اپنی آغوش میں لے لیا منوں مٹی میں نیا گھر
سجا لیا سوگواران میں دو بچیاں اور شریک حیات ھے ۔
سائیں نواز نے گھبراہٹ میں چونکا دینے والی خبر دی کہ افضل نعیم کا انتقال ہو گیا ھے یہ خبر بجلی بن کر میرے وجود کو چھلنی کر گئی اور میں دم بخود رہ گیا پھر ان کا اعلی کردار اور نورانی چہرہ اور ان کے ساتھ گزرے لمحات میرے حافظے میں تروتازہ ہوتے ۔چلے گئے ۔

گلشن ہستی میں وہ شخص گلاب جیسا
دانش و علم سے بھرپور کتابوں جیسا
کیا کیا لکھوں ، منفرد ھے ان کی کہانی
اعلی کردار تھا اور چہرہ بھی نورانی

میں پرسنل اس نامور معروف شخصیت کو جانتا تھا کیونکہ یہ کویت ٹائم میں اردو سیکشن کے ساتھ ساتھ اردو ماہنامہ پروان میگزین سےبھی منسلک رہے ہیں انھوں نے احسن طریقے سے اپنی قلم کا دلیرانہ اور منصفانہ استعمال کیا اور اردو پڑھنے والوں کے دلوں میں راج کرتے رہے
مرحوم دل کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہو گئے مگر یقین مانیں دل کے بہت بڑے اور شفیق انسان تھے سادگی اور گفتگو میں نفاست یہ ان کے اعلی اخلاق کی عکاسی کرتا تھا محنت مشقت سے زندگی کو قلبی سکون اور راحت کا سامان میسر کرتے رہے کافی عرصہ اپنی فیملی کے ساتھ کویت میں رہے مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر بچوں کو مستقل پاکستان منتقل کر دیا
بلا مبالغہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں کرتے تھے لوگوں کے مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیع دیتے تھے مرحوم کو اپنی خواہشات پر کنٹرول تھا انھوں نے اپنی آرزووں اور تمناوں کو محدود رکھا سادگی عاجزی اور انکساری سے چلتے اور فقیرانہ سوچ سمجھ کر انھوں نے یہ سفر طے کیا ابھی تو بہت کچھ باقی تھا جو پھول بن کھلے ہی مرجھا گیا
بندہ مومن کی سب سے بڑی پہچان یہی ھے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے خلق خدا محفوظ رہے گوناں گوں صفات کے علاوہ نعیم افضل مرحوم میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اپنے دوستوں سے بطریق احسن پیش آتے تھے
دنیا میں آج بھی اس طرح کے لوگ تھے جو اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے زندہ ہیں جو دوسروں کی خستہ حالی میں زندگی گزارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے مگر اتنے بے بس ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں کر سکتے اس طرح کی باتیں اکثر اوقات مجھ سے افضل نعیم کہا کرتے تھے کہ کیا کریں
فن اور ادب کی طرف مرحوم خصوصی رحجان رکھتے تھے جولائی کی 10 تاریخ کو میری ملاقات ہوئی افضل نعیم سے کچھ بجھے بجھے سے تھے کہ رہے تھے کہ دل اچاٹ ہو گیا ھے وہ مزا نہیں رہا بچوں کی کمی بھی اور کچھ اور طرح کی اداسی بھی چہرے پر اپنا رنگ دکھا رہی تھی ۔ ایک جملہ مجھے ان کا رلاتا رہے گا کہ عمر گزر گئی سب کو خوش کرنے میں جو خوش ہوئے وہ اپنے نہ تھے جو اپنے
تھے وہ خوش نہ ہوئے
اللہ تعالی نے انسانی دماغ میں حافظے کی نعمت رکھ کر انسان کو اپنا مستقبل سوارنے کے لئے بہت بڑا شرف بخشا ھے کیونکہ ماضی کے دریچوں میں جھانک جھانک کر انسان اپنے مستقبل کے دریچوں کو سنوارنے کی راہ ہموار کرتا رہتا ھے مگر بے بسی سامنے کھڑی اگلے جہاں کا دروازہ کھول دیتی ھے
ہماری دعا ھے کہ مرحوم کو اللہ تعالی جوار رحمت میں جگہ عظیم عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین ثمہ آمین یا رب اللعالمین یارحمت اللعالمین

دعا گو
چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں