ڈاکٹر ظہور احمد اعوان

دل میں رہتا ہوں منافقت نہیں کرتا
جسے ضمیر نہ مانے وہ بات نہیں کرتا
آپنے اصولوں پر دوست کیا دشمن سے بھی
اختلاف تو رکھتا ہوں عداوت نہیں کرتا

ہمدرد مخلص خاموش ورکر

ڈاکٹر ظہور احمد صاحب پاکستانی کمیونٹی میں اپنی آن بان شان اور قابل ستائش خدمات کے سلسلے میں جانے پہچانے جاتے ہیں پاکستان کے شہر مانسہرہ سے تعلق عرصہ چالیس سال سے کویت میں اپنے مستقبل کا آغاز کیا اور ابھی تک وزارت الصحہ کویت میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اپنی فیملی بچوں کے ہمراہ وطن سے دور دیار غیر میں رہائش پذیر قومی سماجی فلاحی اسلامی خدمات میں پیش پیش ہیں
کویت کی سر زمین ان کے لئے دوسرا وطن ھے

وا جو اک بار تو اپنا رِخ زیبا کر دے

ساری دنیا کو خدایا نئی دنیا کر دے
تو نے جس جلوے سے موسی کو کیا تھا بخود
پھر انھی جلووں کا ایک بار تماشہ کر دے
تیرے صدقے تیرے محبوب کے صدقے یا رب
کر دے روشن میری قسمت کا ستارہ کر دے
نشتر زار کو توفیق دے اتنی یا رب
جاں اپنی وہ نثار شہ والا کر دے

ڈاکٹر صاحب خاموش طبع اور دھیمے لہجے کے محبوب دوست ہیں لیکن ان کے اندر ہی اندر ایک طوفان برپا ھے معلوم ہوتا ھے کہ پانی کی خاموش سطح کے نیچے ایک دریا بہہ رہا ھے جو بلاخر ڈاکٹر ظہور احمد کی شکل اختیار کر گیا ھے
مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ایک فولادی شخصیت کے مالک ہیں یہ متواتر دن رات ختم نبوت کا نعرہ بلند اور فلک شفاف آئینے کی طرح بہادری کا جیتا جاگتا ثبوت ہر خاص و عام میں روز روشن کی طرح اعلان کرتے ہیں جس سے دشمںان اسلام قادیانی کافر اور مرتد کی بیخ کنی ہو جاتی ھے تحریک ختم نبوت کے دیار غیر میں مجاہد اور سپہ سالار ہیں ۔
یہ کویت میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ منسلک ہیں اور پاکستانیوں کے دکھ سکھ میں بھی برابر کے شریک ہیں
ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہمیشہ کھیلتی رہتی ھے لیکن ان کی سر گرمیوں کا محور ان کی ذات نہیں ھے اپنی ذات کا بت انھوں نے بنایا نہ پوجا یہ دوسروں کے لئے سوچتے اور دوسروں کے لئے سانس لیتے ہیں ڈاکٹر صاحب کا جذبہ اگر عام ہو جائے سب لوگ نہیں کچھ لوگ ہی ان کی طرح سوچنے لگیں ان کی طرح قدم بڑھائیں ان کی طرح بے نواوں کے نوا بن جائیں تو ہمارے گلشن میں ایسی بہار آ سکتی ھے جس کے بعد خزاں نہیں ۔
ان کی شخصیت سادگی کے حسن سے آراستہ ھے معاملہ خوردونوش کا ہو یا ملبوسات کا ہر دو صورتوں میں ان کا ذوق سادگی سے عبارت ھے ویسے بھی ڈاکٹر صاحب سادہ بودوباش میں یقین رکھتے ہیں ان کے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت دکھائی دیتی ھے یہ نرم گفتار شفیق اور شریف النفس انسان ہیں ۔
ان کی زندگی کا مقصد وحید خیرو فلاح انسانیت ھے یہ جذبہ انھیں سرور کی حالت میں رکھتا ھے جس کا عکس ان کی شخصیت میں صاف دکھائی دیتا ھے ملنساری ان کی فطرت ثانیہ ھے اس لئے حلقہ احباب بہت وسیع ھے لوگوں کی آو بھگت کرنا جانتے ہیں اس لئے ان کے دوست بھی ان سے گہرا لگاو رکھتے ہیں دوستوں کی خوشی اور غم میں شریک رہتے ہیں ایسا ہمدرد اور بے لوث انسان چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی مشکل سے ملتا ھے
ڈاکٹر صاحب ایک صاحب علم و عمل اور منفرد شخصیت کے مالک ہیں اللہ تعالی اپنے نیک بندوں میں سے جس کو چاہتا ھے نیک صالح کاموں کے لئے چن لیتا ھے ان کا شمار بھی انھی لوگوں میں سے یوتا ھے ۔
ڈاکٹر صاحب کا کہنا ھے کہ ایمان لانے کے بعد سب سے اچھا اور نیک کام اللہ کی مخلوق سے محبت اور خدمت کرنا ہوتا ھے ڈاکٹر صاحب اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی حیات مبارکہ کو مشعل راہ بنا کر زندگی گزار رہے ہیں ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں انسانیت کی خدمت کرنے کا شوق جنون کی حد تک ھے ڈاکٹر صاحب لوگوں کی تکالیف پریشانیوں اور تنگدستی دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اپنے محدود وسائل کے باوجود ہر مستحق شخص کی جہاں تک ہو سکے مدد کرتے ہیں
اللہ تعالی ان کے اس نیک کام کو قبول فرمائے آمین
عجز و انکساری کا پیکر اگر دیکھنا ہو تو ڈاکٹر ظہور احمد کو دیکھیں ۔

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں