محمد افضل شافی

رقیبوں نے رٹ لکھائی ھے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ھے خدا کا اس زمانے میں

خزاں کے رنگ میں ابھی وقار باقی ھے
چراغ سحر ھے پر ابھی انتظار باقی ھے
ہمیں سلام کرو اے حوادث دوراں
تمھارے ساتھ پھر بھی قرار باقی ھے
گزر چکا ھے امیدوں کا قافلہ کب سے
راہ یقین پہ اب بھی غبار باقی ھے
ہمیں پکار لو جب چلو ہم ملیں گے وہیں
ملے ہیں خاک میں لیکن وقار باقی ھے

مقام آدمیت پر فائز ، محبتوں کا سوداگر

محمد افضل شافی صاحب سے میری شناسائی اور قلبی دوستی 15 سال سے زائد عرصہ تک محیط ھے آپ کا شمار ان چند حضرات میں ہوتا ھے جن کو شرافت دیانت شائستگی راست طبعی اور راست روی ورثہ میں ملی ھے
ان کی دوستی سے مجھے ہمیشہ اپنائیت خلوص اور چاہت کی ہوائیں آتی رہی ہیں

آپ کا خاندان شعبہ تعلیم و تربیت میں بلخصوص ممتاز رہا ھے آپ کویت میں بنک الاھلی میں عرصہ دراز سے خدمات انجام دیتے رہے ۔ یہاں پر ایک اعلی آفیسر کے عہدے پر فائز تھے
محمد افضل شافی صاحب خاموش طبع اور دھیمے لہجے کے خوبصورت ، اعل صاحبی سیرت کے انمول فرزند اور شفیق باپ کے ساتھ ساتھ شریک حیات کے سر کے تاج بھی ہیں
جب میں شافی صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بہت سی باتیں یاد آ جاتی ہیں ہر جگہ ان کی شخصیت اور زندگی کا فلسفہ دکھائی دیتا ھے
یہ بہت بڑے مفکر ، دانشور اور قلم کی نوک سے جوک در جوک یہ نہر میں سمندر بہا دیتے ہیں یہ اپنی قلم کے بہت بڑے فنکار ہیں قلم کی پھیکی سیاہی سے بھی سر قلم کر دیتے ہیں میں نے ان کے اندر ڈوبنے کی بڑی کوشش کی مگر ہزار جتن کئے مگر ایک غوطہ بھی نہ لگا سکا
یہ بڑے گہرے اور ان کے اندر کئی خزانے مدفون ہیں
محمد افضل شافی کے متعلق بہت کچھ لکھا مگر کچھ بھی نہ لکھ سکا
علم کی اشاعت ، فکر کی وسعت اور دانش کی حفاظت کسی قوم کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ھے اس لئے محمد افضل شافی صاحب انسانی خدمت میں حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں اور اپنے علم و فکر کو ملک و ملت کے لئے سر عام کرتے ہیں میرے لئے نہایت قابل احترام اور لائق ستائش ہیں ۔
ان سے میرے فیملی تعلقات اور مخلص دوست سے بڑھ کر دوستی اس ڈگر پر ھے جہاں سوچ بھی مدہم اور دم توڑ دیتی ھے اور تیز و تند ہوائیں بھی اپنا رخ بدل لیتی ہیں
طبعیت کے اعتبار سے بڑے ہی منفرد مختلف انسانیت کے سلجھاو کی شمع روشن کر کے پیغام محبت نچھاور کر رہے ہیں اس میں کوئی مبالغہ نہیں ھے ویسے بھی جو دل سے بات نکلتی ھے اثر رکھتی ھے یہ میری ریسرچ ھے محمد افضل شافی کے بارے میں جو ڈیڑھ دھائی سے تعلق آہستہ مگر تیز رفتاری سے چلا آ رہا ھے ،
ایک بات طے ھے کہ شعبدہ بازی منافقانہ کردار اور چال بازی ان کے برین ویڈیو میں ریکارڈ ہو جاتی ھے بغیر پڑھے کسی بھی کتب کی تشریح کرنی ممکن نہیں ہوتی جو کہ ہم فلبدی اپنی فنی کتابت کا حصہ بنا کر خود فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے محمد افضل شافی کو پڑھنا بہت ضروری ھے جو کہ ایک علم کی لائبریری ہیں ۔ اس کے بعد ہی ان پر مارک پاس کیا جا سکتا ھے ۔
دوسرا ایک خاص بات یہ کہ شافی صاحب کا مزاج ایسا نہیں ھے کہ ظرف کھو کر اپنی انا بچاتے پھریں ۔ لیکن کبھی جواب ایسا دیتے ہیں کہ پھر سوال ہی پیدا نہ ہو یہ اپنی سوچ کو بھی تراش کر سلجھا لیتے ہیں ان کی کہاوت ھے کہ کسی کو اتنا مجبور نہیں کرنا چاہیئے کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر لفظوں سے تمھاری دھجیاں اڑا دے ۔

حلفیہ بیان
یہ حقائق کی معتبر دلیل ھے اس میں کوئی بھی بات پوشیدہ یا گمراہ کن نہیں ھے
یہ سارا میرا ذاتی مشاہدہ اور اپنی ابزرویشن ھے اس میں
کسی سے بھی کوئی رہنمائی ( مشاورت ) نہیں لی گئی

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں