شکیل احمد ڈار

عبدالستار ایدھی کا پیروکار

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

وقت سب کو ملتا ھے زندگی بدلنے کے لئے
لیکن زندگی نہیں ملتی وقت بدلنے کے لئے

ایک نام ایک۔پہچان خدمت خلق کی روشن مثال

محترم شکیل احمد ڈار صاحب

اس وقت کویت کی فضاوں میں آج کی گرم اور ٹھنڈی ہواوں میں جگ مگ کرتے ہوئے جوش اور جذبے سے مالا مال دیانت داری کا مجسمہ روشن چہرہ مستحق افراد کی آماجگاہ بن کر دکھی انسانیت پر نچھاور ہیں اپنے کردار کو ہمت جذبے کا سوداگر بنا کر خاموشی سے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے نجات کا وسیلہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔

میں ڈار صاحب کو جانتا ہوں مگر جتنا جانتا ہوں بہت اچھا اور اچھی طرح جانتا ہوں ہمدرد انسان ہیں خالی ہاتھوں سے سخاوت کر رہے ہیں کیونکہ ان کی صدا میں بھی ایک ادا ھے بڑے پیار سے بات کرتے ہیں کسی کی بھی فریاد یا التجا کو نہیں ٹھکراتے
یہ اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیع دیتے ہیں اپنی خواہشات پر قابو پاتے ہیں اپنی آرزووں اور تمناوں کو محدود رکھتے ہیں اپنی ذات کا محاسبہ کرتے ہیں ۔

یہ جو مستحق طبقے کی رہنمائی کی جا رہی ھے بلکہ یہ رہنما اصول نہ صرف متاثر کن مطالعاتی مواد ھے بلکہ یہ رہنما قوت ھے جو زندگی کی اخلاقی اقدار کی نشوونما میں ہماری معاونت کرتے ہیں یہ سب کچھ عین اسلام کے مطابق ھے ۔ جس مخلصانہ جذبے سے ڈار صاحب اچھے خیالات پھیلانے میں مصروف ہیں میں دل سے ان کی قدر کرتا ہوں

شکیل ڈار صاحب عیبوں کی پردہ پوشی اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے دوسروں کا دل نہ دکھانے ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ نہ کرنے کے اپنے ارادے کو نیکی عبادت اور خدمت خلق کی طرف راغب ہونے کے قائل ہیں
میری ہر خاص و عام سے مخلصانہ اپیل ھے کہ مخیر حضرات میدان میں تھوڑا تھوڑا بہت تھوڑا بھی پانی کا قطرہ زمین سیراب کر دیتا ھے آگے بڑھیں اور آج انسانی زندگی داو پر لگی ھے مدد کیجئے اور اللہ تعالی سے تجارت کر کے منافع بخش کاروبار میں شراکت داری قائم کر لیں کیونکہ انسان آج جس مقام پر کھڑا ھے وہ مقام عبرت ھے

اس لئے دوستو سب انسان برابر ہیں اگرچہ ان کے کام مختلف ہیں اس لئے یہ ہر انسان کی عزت کرتے ہیں اور خوش اخلاقی مسکراہٹ ہمدردی اور خلوص ان کا وطیرہ ھے آئیں سب مل کر کم سے کم سکوں سے یا مختلف اجناس سے صدقہ و خیرات کی ابتداء کریں خوبصورت دن کا آغاز کریں اسی میں ہماری بھلائی ھے آج انسانیت آپ کے در پر کھڑی آپ کی مسکراہٹ کا انتظار کر رہی ھے پھیلایا ہوا ہاتھ آپ کے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ھے آپ نصیب والے ہیں اللہ تعالی نے آپ کی دہلیز پر اپنا فضل بھیجا ھے قدم بڑھاو اور غریب مستحق ضرورت مندوں سے بغل گیر ہو جائیں اور ان کی حاجت پوری کر دیں ۔ اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو ۔
آمین ثمہ آمین

ہم نے جب وادی غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو

( نوٹ ) یہ میرا ذاتی مشاہدہ ھے

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں