وسیم جٹھول

انسان بڑا خود غرض ھے پسند کرے تو برائی نہیں دیکھتا
کمال بات یہ ھے نفرت کرے تو اچھائی نہیں دیکھتا

وسیم جٹھول کا تعلق گاوں بھوپالوالا سمبڑیال سیالکوٹ پاکستان سے ھے 15 سال سے کویت میں بسلسلہ روز گار مصروف زندگی ہیں سیاست سے دلچسپی ھے خوب سے خوب تر کی تلاش میں آگے اور آگے بڑھنے کا ذوق و شوق اس قدر ھے کہ کام اور کام قائد اعظم رحمت اللہ کی پالیسی پر کاربند ہیں دوست احباب سے تعلقات مساویانہ ہیں سچ پر قائم دائم اور جھوٹ کو قلع قمع کرنے کے لئے کہیں تک جا پہنچتے ہیں والدین کی آنکھوں کا تارا اور ماں کے قدموں میں جنت کی اہمیت کو وسیم اچھی طرح سمجھتے ہیں اور سر تسلیم خم کر کے ان قدموں کو بھوسہ دینے میں فخر محسوس کرتے تھے جن کے قدموں کے نیچے جنت ھے
وسیم کے والد بزرگوار حاجی حنیف جٹھول اپنے ادوار میں سوشل ورکر تھے گردو نواح میں ان کی خدمات کا اعتراف لوگ آج بھی کرتے ہیں یہی والد صاحب کی خوبیاں وسیم نے سمیٹ لی ہیں ۔
اور پھر وسیم کی پیاری ماں نے جب وسیم کا نام تجویز کیا ہوگا تو قبول دعا کا وقت ہو گا کہ ان کا دیا نام اپنے پورے معنوں میں صحیح ثابت ہوا
وسیم جٹھول محب وطن اور دن رات محنت مشقت کا عادی تو ھے مگر والدین اس دنیا میں نہیں رہے ماں باپ کی محبت اور ان کا خلوص شفقت ان سے روٹھ گیا ھے اسی طرح والدین کے لہجے یاد ہیں وہ اثر کرتے تھے نہ کہ الفاظ ۔
باتوں باتوں میں کیا خوب بات کہی وسیم نے کہ یہاں ننگا جسم ڈھانپنے کے لئے کوئی پیسہ نہیں دیتا مگر کسی کا جسم ننگا کرنے کے لئے لاکھوں لٹا دیتے ہیں
اسی طرح وسیم کا کویت میں اپنے دوست احباب کے ساتھ دوستانہ ماحول بڑا مثالی کردار ھے یہ تبھی ہو سکتا ھے اگر انسان دل میں انسانیت کا غم رکھتا ہو حساس دل و دماغ کا مالک ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمت جرات کا حامل بھی ہو اگر حصول مقصد کے راستے میں مشکلات پیش آئیں تو ان سے کما حقہ دو بدو ہو سکے یہ تمام خوبیاں وسیم جٹھول میں پائی جاتی ہیں ۔
زمانے کی بے انصافیوں سے ہمیں اخلاقی سبق ملتا ھے کہ ہم نادان اور نہ سمجھ لوگوں کی طرح ہر چمکنے والی چیز کو سونا سمجھتے ہیں اور اصل حقیقت سے واقفیت نہیں رکھتے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آنکھیں کھول کر ایک صاحب ادراک کی طرح زمین پر اور موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں اور ہمیں یہ اخلاقی سبق ملتا ھے کہ دکھ درد اور غم بھی زندگی کا حصہ ہیں وسیم جٹھول بڑے گہرے اور پختہ ذہن کے مالک اور دور اندیش بھی ہیں
پی ٹی آئی سے دلچسپی مثالی ھے اور سچے کارکن اور محب وطن ہیں وزیر اعظم عمران خان سے عشق کی حد تک لگاو ھے ۔
وسیم نے بڑے ناصحانہ انداز میں انسان کو جھنجوڑ دیا ھے اور جدوجہد کا پیغام دیا ھے کہ کب تک مایوسی اور نا امیدیں کی چادر اوڑھے اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع کرتے رہو گے اور اگر اب بھی ضائع کیا تو عمران خان بار بار نہیں آتے اور منزل دور دور ہوتی جائے گی اے پاکستانیوں اس گھنٹی کی آواز کو سن لو جو تمھیں عمران خان دے رہا ھے

یعنی اپنے ضمیر کی آواز پر بھی توجہ دے اور بے آس بے
آسرا شکستہ دل اور نامراد نہ پڑا رہ
بلکہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا اٹھ جاگ اور بیدار ہو اور اپنی اس غفلت کی نیند کو ترک کر دے اور امید دامن تھام کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر منزل مقصود کی طرف قدم بڑھا اس مایوسی کی ٹھنڈی چھاوں کو چھوڑ اور دل کی پکار اور ضمیر کی آواز کی روشنی میں اپنا سفر سوئے منزل جاری رکھ ۔
یہ باتیں اور زمانے سے شکائتیں کرتے کرتے وسیم کے آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے بھی رلا دیا

نہ عروج اچھا ھے ، نہ زوال اچھا ھے
خدا جس حال میں رکھے وہ حال اچھا ھے

اس طرح کے ہی نوجوان ملک اور قوم کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور مملکت خدا داد پاکستان کو بھی مجاہدانہ صلاحیتوں کے مالک نوجوان چاہئے جو تول اور ناپ اچھی طرح جانتے ہوں
میری دعا ھے کہ اللہ تعالی وسیم جٹھول کی لمبی دراز عمر اور مزید صلاحیتوں سے مالا مال کرے اور کامیابیاں اور کامرانیاں اس کی دہلیز پر منتظر ہوں ۔
آمین ثمہ آمین یا رب اللعالمین یا رحمت اللعالمین

یہ تحریر میری ذاتی رائے پر مبنی ھے اس میں کسی سے بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی
اگر کوئی مماثلت ھے تو محض اتفاق ہوگا

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

وسیم جٹھول” ایک تبصرہ

  1. جزاک الله خیر آپ کی بہت اچھی کاوش ہے کویت پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کا بہت اچھا ذریعہ ہے ساتھ ساتھ کمیونٹی کو پل پل با خبر رکھنے کے لیے ۔۔کویت کی جو موجودہ صورتحال ہے جو پاکستانی بھائی پاکستان میں کرونا کی وبا بعد مشکلات سے دوچار ہیں ۔آپ کے ہر وقت اپڈیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں الحمدللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں