کویت میں طالبہ سے جنسی زیادتی کے الزا م میں سینیئر پروفیسر گرفتار

پروفیسر نے پچھلے سمسٹر کا پرچہ حل کروانے کے بہانے طالبہ کو کمرے میں بُلانے کے بعد اس پر جنسی حملہ کیا

کویت ۔ اُستاد اور شاگرد کا رتبہ بہت مضبوط اور پاک ہوتا ہے۔ مذہب اسلام میں مُعلمی کو پیغمبری پیشہ قرار دے کر اس کی حُرمت اور تقدیس کو واضح کیا گیا ہے تاہم ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو مُعلمی کی آڑ میں اپنے شرمناک عزائم پورے کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کویت میں بھی ایک ایسی ہی شرمناک سوچ والے پروفیسرکی بیمار جنسی ذہنیت کھُل کر سامنے آ گئی ہے جس نے اپنی بیٹی کی عمر کی طالبہ پر جنسی حملہ کیا۔پولیس کی جانب سے میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔المرصد کے مطابق میڈیکل یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے بتایا کہ اس کے پروفیسر صاحب اکثر اسے عجیب سی نظروں سے گھورا کرتے تھے۔ تاہم اس نے ان کی اس نظر بازی کو اپنا وہم قرار دے کر نظر انداز کر دیا تھا۔

مگر ان پروفیسر نے اسے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ طالبہ نے بتایا کہ وہ کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر پچھلے سمسٹر کا ایک پرچہ دے نہیں پائی تھی، جس پر پروفیسر صاحب نے اسے کہا کہ وہ ان کے آفس کے کمرے میں آئے اور وہیں بیٹھ کر اپنا پرچہ حل کر دے۔پرچہ حل کرنے کے دوران بھی پروفیسر اسے ہوس بھری نظروں سے گھورتا اور اسے چھونے کی بھی کوشش کی جس پر طالبہ نے تنگ آ کر ادھورا چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے کا ارادہ بنا لیا۔ تاہم پروفیسر نے اکیلی طالبہ کو اچانک پرچہ درمیان میں چھوڑ کر کمرے سے باہر جانے سے روک دیا اور اسے زبردستی دبوچ کر اس کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکات کیں۔ ملزم پروفیسر اپنی طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ تاہم طالبہ کسی طرح خود کو اس کی گرفت سے چھُڑا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی ۔ جس کے بعد اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سارے معاملے سے آگاہ کر دیا۔ عدالت نے تمام عدالت نے ملزم پروفیسر کے خلاف ناکافی شواہد کی بناء پر اسے رہا کر دیا ہے

بحوالہ : اُردو پوائنٹ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں