زوہیب اسلم چوہدری

نئی صبح کا آغاز

روشن خیالی جذبہ خیر سگالی

افق نہاں ھے تو حد نظر کا ذکر کر
ستارے ڈوب رہے ہیں سحر کا ذکر کر

( زوہیب اسلم کا تعلق شور کوٹ کینٹ ( ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاکستان سے ھے
پھر انھوں نے تعلیم سے فارغ ہو کر کویت 2007 میں
انجنیئرنگ شعبہ میں سروس کی ابتداء کی اور وفا کی پیکر شریک حیات کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا یہ اللہ تعالی کی طرف سے گفٹ خدا وندی ھے اور بہترین ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا اور یوں رب اللعالمین نے بچے کی ولادت سے ہماری روحانی تسکین کو چار چاند لگا دیئے
اور ماں باپ کے دعاوں سے سنہرے روپ نے فضاوں میں رنگ بھر دیئے
ذوہیب اسلم پڑھی لکھی تربیت یافتہ فیملی کے اکلوتے چشم و چراغ ہیں ان کے والد صاحب ایک مایہ ناز شخصیت ہیں انکساری تہزیب و تمدن اخلاق اور شرم و حیا پاک دامنی ان کا گہنا ھے اسی وجہ سے معاشرے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ برادری
اور قرب جوار میں سب لوگ انھیں کو اپنا ہر دلعزیز رہبر اور رہنما سمجھتے ہیں
اسی طرح والدہ محترمہ کا تقدس بھی بڑا مقدس ھے یہ اپنی ماں کا روشن چراغ ہیں دن رات ماں کی آغوش میں رہنا چاہتے ہیں ماں کی دعاوں کا نتیجہ ھے کہ آج نور چشم بام عروج افق پر براجمان ہیں

ان کی نمایاں خصوصیات انسانی دوستی ھے جو عظمت انسان کی عصمت و عزت و برکات کا خاص خیال رکھا جاتا ھے یہ دور دیس میں بیٹھ کر اپنے وطن پرستوں پر پھول کی پتیاں سخاوت کرتے رہتے ہیں

یہ ذاتی طور پر ایک نہایت شریف النفس بااخلاق اور درد دل رکھنے والے نوجوان ہیں جو کوئی ان سے ایک دفعہ مل لیتا ھے ۔ اس کا بار بار ملنے کو جی چاہتا ھے

ہنسنا آتا ھے مجھے مگر مجھ سے غم کی بات نہیں ہوتی
میری باتوں میں مذاق ہوتا ھے پر میری ہر بات مذاق نہیں ہوتی

ان کا اخلاق و عادات بہت واضع نکھری طبعیت
ہنس مکھ مزاج ھے نہایت خلیق ملنسار حلیم الطبع اور راست باز ھے یہ حب الوطنی اور پاکستانیوں کے سچے دوست ہیں ہمدردی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ھے وسیع القلب ہیں شدید مخالفت اور اختلاف کو نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں
یہ فطری طور پر حساس ہمدرد اور خدا ترس انسان تو بچپن سے ہی تھے علم آگہی کی آبیاری سے انسان دوستی کا پودا خوب پروان چڑھا جو اب ایک خوبصورت شخصیت کے روپ میں ایک تن آور درخت بن چکا ھے

میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو سکوت اور خاموشی کی اس فضاء میں سوچ کو سوچ کر اور سوچتا رہا اس نے میرے فکر کے زاویوں کو بدل دیا میری پریشانیوں کو سکون عطا کیا کہ یہ فرشتہ نما صفات کا مجسمہ کتنا سیدھا اور صاف گو شاہکار ھے فطرت حسین بھی اور جمیل بھی ھے مناظر فطرت دلکش بھی ہیں ۔

خدمت خلق ایک ایسا جذبہ ھے جسے ہر مسلک اور مذہب میں بڑی اہمیت حاصل ھے دین اسلام بھی خدمت خلق کی تعلیم دیتا ھے انسان اشرف المخلوقات ھے اس کے اندر یہ جذبہ بدرجہ اتم پایا جاتا ھے یہ سب باتیں جو لکھ رہا ہوں اس کا تعلق ان کی عملی زندگی کا مشاہدہ ھے جو ان کو دوسروں کے دکھ درد کی ذرا آہٹ بھی سنائی دے تو کہتے ہیں یہ دنیا فکر پریشانی کی بارونق قیام گاہ ھے ۔ جو انسان ایک دوسرے کے کام نہ آئے وہ بھی کوئی انسان ھے

کبھی کبھی لگتا ھے کہ یہ بڑے مفکر دانشور ہیں جو کہتے ہیں سایہ جب قد سے بڑا اور باتیں اوقات سے بڑی ہونے لگ جائیں تو سمجھ جائیں سورج غروب ہونے والا ھے مشین کو زنگ لگے تو پرزے شور کرنے لگتے ہیں اور عقل کو زنگ لگ جائے تو زبان فضول بولنے لگتی ھے

جس مخلص جذبے سے یہ مجاہد اپنے اچھے خیالات پھیلانے میں مصروف ہیں میں ان کی دل سے قدر کرتا ہوں ۔
جب تک سوچ نہیں بدلتی رویہ نہیں بدلتا اس وقت تک عمل بھی نہیں ہوتا یہ فرزند ارجمند سوچ اور رویہ بدلنے کے لئے امید کی کرن کو موم بتی سے روشن کرنا چاہتے ہیں
یہ روشنی تھوڑی صحیح مگر گھپ اندھیرے کا کلیجہ تو پھاڑ دیتی ھے ۔ ( واہ بھئی واہ )

میری دعا ھے کہ اللہ تبارک و تعالی ان کی ہر مراد پوری کرے اور مانگی گئی دعاوں میں اثر پیدا کرے ہم بھی نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں ۔

آمین ثمہ آمین

یہ تحریر میری ذاتی رائے پر مبنی ھے اس میں کسی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا ۔

چوھدری غلام سرور
پروان میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں